سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 1009

نمبر 1009کتاب 2، نمبر 620
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، بِإِسْنَادِهِ - وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَتَمُّ - قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَقُلْ بِنَا ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فَأَوْمَئُوا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ - وَلَمْ يَقُلْ وَكَبَّرَ - ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ وَتَمَّ حَدِيثُهُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَوْمَئُوا ‏.‏ إِلاَّ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَقُلْ فَكَبَّرَ ‏.‏ وَلاَ ذَكَرَ رَجَعَ ‏.‏
اس طریق سے بھی محمد بن سیرین سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اور حماد کی روایت زیادہ کامل ہے مالک نے «صلى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے «صلى بنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» نہیں کہا ہے اور نہ ہی انہوں نے «فأومئوا» کہا ہے ( جیسا کہ حماد نے کہا ہے بلکہ اس کی جگہ ) انہوں نے «فقال الناس نعم» کہا ہے، اور مالک نے «ثم رفع» کہا ہے، «وكبر» نہیں کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے، یعنی مالک نے «رفع وكبر» کہنے کے بجائے صرف «رفع» پر اکتفا کیا ہے اور مالک نے «ثم كبر وسجد مثل سجوده أو أطول ثم رفع» کہا ہے جیسا کہ حماد نے کہا ہے اور مالک کی حدیث یہاں پوری ہو گئی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے مالک نے اس کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی لوگوں کے اشارے کا انہوں نے ذکر کیا ہے صرف حماد بن زید نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث جتنے لوگوں نے بھی روایت کی ہے کسی نے بھی لفظ «فكبر‏.‏» نہیں کہا ہے اور نہ ہی «رجع.‏» کا ذکر کیا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Sahih Bukhari (714)Zubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 2 · Prayer (Kitab Al-Salat)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔