سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 2507

نمبر 2507کتاب 15، نمبر 31
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ ‏:‏ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَخِذِي، فَمَا وَجَدْتُ ثِقَلَ شَىْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ اكْتُبْ ‏"‏ ‏.‏ فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ ‏:‏ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ - وَكَانَ رَجُلاً أَعْمَى - لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ فَقَالَ ‏:‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لاَ يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا قَضَى كَلاَمَهُ غَشِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي وَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ كَمَا وَجَدْتُ فِي الْمَرَّةِ الأُولَى ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ اقْرَأْ يَا زَيْدُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَرَأْتُ ‏{‏ لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ‏}‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ‏}‏ الآيَةَ كُلَّهَا ‏.‏ قَالَ زَيْدٌ ‏:‏ فَأَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا فَأَلْحَقْتُهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي كَتِفٍ ‏.‏
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا ( یعنی وحی اترنے لگی ) ( اسی دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ ( کی ایک ہڈی ) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ( سورۃ النساء: ۹۵ ) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( ایک نابینا شخص تھے ) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا ( وحی اترنے لگی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «غير أولي الضرر» کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
ماخذ میں درج درجات
  • Hasan SahihAl-Albani
  • Hasan SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 15 · Jihad (Kitab Al-Jihad)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔