نمبر 2268کتاب 13، نمبر 94
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ . لَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ هُوَ تَدْلِيسٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ إِنَّمَا سَمِعَ الأَسَارِيرَ مِنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ . قَالَ وَالأَسَارِيرُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ يَقُولُ كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ شَدِيدَ السَّوَادِ مِثْلَ الْقَارِ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ مِثْلَ الْقُطْنِ .
اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے، ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے «أسارير وجهه» کے بجائے «لأسارير من غير» کے الفاظ سنے ہیں اور «أسارير» کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ۱؎ اور زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAl-Albani
- SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- SahihShuaib Al Arnaut
- Sahih Bukhari (6771) Sahih Muslim (1459)Zubair Ali Zai