سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 1716

نمبر 1716کتاب 10، نمبر 16
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ فَقَالَ مَا يُبْكِيهِمَا قَالَتِ الْجُوعُ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتِ اذْهَبْ إِلَى فُلاَنٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَقَالَ الْيَهُودِيُّ أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ ‏.‏ فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتِ اذْهَبْ إِلَى فُلاَنٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلاَلاً أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَكَلُوا فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلاَمٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالإِسْلاَمَ الدِّينَارَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ ‏.‏ فَقَالَ سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا عَلِيُّ اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ لَكَ أَرْسِلْ إِلَىَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَيْهِ ‏.‏
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے، تو انہوں نے پوچھا: یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں؟ فاطمہ نے کہا: بھوک ( سے رو رہے ہیں ) ، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا، تو یہودی نے پوچھا: تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے؟ وہ بولے: ہاں، اس نے کہا: اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں: فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی، اور اپنے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں: اللہ کے رسول! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: بازار میں مجھ سے ( میرا دینار ) گر گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں: دینار مجھے بھیج دو، تمہارا درہم میرے ذمے ہے ، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ( لڑکے ) کو دے دیا۔
ماخذ میں درج درجات
  • HasanAl-Albani
  • HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 10 · The Book of Lost and Found Items

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔