سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tawba
سورت 9

At-Tawba

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 7

كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَـٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ 7

کیوں کر ہو سکتا ہے واسطے مشرکوں کے عہد، نزدیک اللہ کے اور نزدیک اس کے رسول کے سوائے ان لوگوں کے جن سے عہد کیا تم نے نزدیک مسجد حرام کے، پس جب تک سیدھے رہیں وہ تمھارے لیے تو سیدھے رہو تم بھی ان کے لیے ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے متقیوں کو(7)

[7] یہ اس حکمت الٰہی کا بیان ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہوں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ كَيۡفَ يَكُوۡنُ لِلۡمُشۡرِكِيۡنَ۠ عَهۡدٌ عِنۡدَ اللّٰهِ وَعِنۡدَ رَسُوۡلِهٖۤ ﴾ ’’کیوں کر ہو مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک‘‘ کیا انھوں نے واجبات ایمان کو قائم کیا ہے؟ یا انھوں نے رسول اللہﷺ اور اہل ایمان کو اذیت دینی چھوڑ دی ہے؟.... (بلکہ) انھوں نے حق کے خلاف جنگ کی اور باطل کی مدد کی.... کیا انھوں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھرپور کوشش کر کے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں ٹھہرا لیا کہ اللہ تعالیٰ ان سے بری الذمہ ہو۔ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں ان کے لیے کوئی عہد اور ذمہ نہ ہو؟ ﴿ اِلَّا الَّذِيۡنَ عٰهَدۡتُّمۡ ﴾ ’’سوائے ان کے جن سے تم نے عہد کیا‘‘ یعنی مشرکین میں سے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا ﴿ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ﴾ ’’مسجد حرام کے پاس‘‘ پس اس عہد میں .... خاص طور پر فضیلت والی اس جگہ پر... ان کے لیے حرمت ہے جو اس بات کی موجب ہے کہ ان کی رعایت رکھی جائے۔ ﴿ فَمَا اسۡتَقَامُوۡا لَكُمۡ فَاسۡتَقِيۡمُوۡا۠ لَهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ﴾ ’’پس جب تک وہ اپنے عہد پر قائم رہیں تو تم بھی اپنے عہد پر قائم رہو بے شک اللہ اہل تقویٰ کو پسند کرتا ہے۔‘‘

بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: