Al-Mursalaat
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
كُلُوا۟ وَتَمَتَّعُوا۟ قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ 46 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 47 وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱرْكَعُوا۟ لَا يَرْكَعُونَ 48 وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ 49 فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ 50
(جھٹلانے والو!) تم کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ تھوڑا سا، یقیناً تم مجرم ہو (46) ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (47) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، رکوع کرو تم تو نہیں رکوع کرتے وہ (48) تباہی ہے اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے(49) پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد وہ ایمان لائیں گے؟ (50)
[50-46] یہ تکذیب کرنے والوں کے لیے تہدید و وعید ہے کہ اگرچہ انھوں نے دنیا میں کھایا پیا اور لذات دنیا سے فائدہ اٹھایا اور عبادات سے غافل رہے مگر وہ مجرم ہیں اور اسی سزا کے مستحق ہیں جس کے مستحق مجرم ہوتے ہیں، لہٰذا عنقریب ان کی لذات منقطع ہو جائیں گی اور تاوان اور نقصان باقی رہ جائیں گے۔ ان کا ایک جرم یہ ہے کہ جب انھیں نماز، جو کہ سب سے زیادہ شرف کی حامل عبادت ہے، کا حکم دیا جاتا اور ان سے کہا جاتا تھا﴿ارۡكَعُوۡا﴾’’رکوع کرو‘‘ تو حکم کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ پس کون سا جرم اس سے بڑھ کر اور کون سی تکذیب اس سے زیادہ بڑی ہے؟ ﴿وَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ﴾ ’’اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے‘‘ ان کی ایک ہلاکت یہ بھی ہے کہ ان پر توفیق کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو جائیں گے۔پس جب انھوں نے اس قرآن کو جھٹلا دیا جو علی الاطلاق صدق و یقین کے بلند ترین مرتبے پر ہے ﴿فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے جو اپنے نام کی مانند ہے جس پر کوئی دلیل تو کجا، کوئی شبہ بھی قائم نہیں ہوتا ؟یا وہ کسی مشرک، کذاب اور کھلے بہتان طراز کے کلام پر ایمان لائیں گے؟پس نور مبین کے بعد گھٹا ٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا، صدق کے بعد، جس پر قطعی دلائل و براہین قائم ہوں، صریح بہتان اور کھلے جھوٹ کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا جو صرف اسی شخص کے لائق ہے جس سے یہ مناسبت رکھتا ہے۔ ہلاکت ہے ان کے لیے، وہ کتنے اندھے ہو گئے ہیں! اور برا ہو ان کا، کس قدر خسارے اور بدبختی کا شکار ہو گئے ہیں !ہم اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں وہ جوّاد اور صاحب کرم ہے۔