Al-A'raaf
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَـٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ 80 إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ 81 وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ 82 فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ 83 وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ 84
اور (یاد کیجیے!) لوط کو، جب کہا اس نے اپنی قوم سے کیا کرتے ہو تم ایسی بے حیائی جو نہیں کی پہلے تم سے وہ(برائی) کسی نے بھی جہان والوں میں سے؟(80) بلاشبہ تم آتے ہو مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے چھوڑ کر عورتوں کو،بلکہ تم لوگ ہو حد سے بڑھ جانے والے(81) اور نہیں تھا جواب اس کی قوم کا مگر یہ کہ کہا انھوں نے! نکال دو انھیں اپنی بستی سے، بے شک یہ لوگ ہیں بڑے پاک صاف بنتے(82) تو نجات دی ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو سوائے اس کی بیوی کے کہ تھی وہ باقی ماندہ(ہلاک ہونے والوں) میں سے (83) اور برسائی ہم نے ان پر بارش(پتھروں کی) تو دیکھ لیجیے کیساہوا انجام مجرموں کا؟(84)
[80]﴿وَلُوۡطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (u) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انھیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انھیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہان میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوطu نے کہا! ﴿ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ ﴾ ’’کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی‘‘ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہو جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔ ﴿ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں ‘‘ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لیے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔
[81] پھر لوطu نے واضح کرتے ہوئے فرمایا ﴿اِنَّـكُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ﴾ ’’خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کیسے عورتوں کو چھوڑ کر، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے پیدا کیا ہے، جن سے تمتع کرنا فطرت اور جبلی شہوت کے مطابق ہے، مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو، جو کہ قباحت اور خباثت کی انتہا ہے۔ یہ جسم کا وہ حصہ ہے جہاں سے گندگی اور بدبودار مادے خارج ہوتے ہیں اس حصے کو چھونا اور اس کے قریب جانا تو کجا اس کا نام لینے سے بھی شرم آتی ہے۔ ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌؔ مُّسۡرِفُوۡنَ﴾ ’’بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود کو پھلانگتے ہو اور اس کے محرمات کے ارتکاب کی جسارت کرتے ہو۔
[82]﴿ وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ١ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اور نہیں تھا جواب اس قوم کا مگر یہ کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ‘‘ یعنی اپنے آپ کو اس فحش کام سے دور رکھنا چاہتے ہیں ﴿ وَمَا نَقَمُوۡا مِنۡهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡحَمِيۡدِ﴾(البروج:85؍8) ’’وہ ان پر صرف اسی بات پر ناراض ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔‘‘
[83]﴿فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ١ۖٞ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی بیوی کہ رہ گئی وہ وہاں کے رہنے والوں میں ‘‘ یعنی وہ پیچھے رہ جانے اور عذاب میں گرفتار ہونے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوطu کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں کیونکہ صبح سویرے ان کی قوم پر عذاب ٹوٹنے والا ہے۔ حضرت لوطu اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔ اس عورت کو بھی اس عذاب نے آلیا جو ان بدکار لوگوں پر آیا تھا۔
[84]﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ﴾ ’’اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینہ برسایا۔‘‘ یعنی ہم نے سخت گرم کھنگر کے پتھر ان پر برسائے اور اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر نیچے کر دیا۔ ﴿ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’پس دیکھو، کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔‘‘ ہلاکت اور دائمی رسوائی۔