Al-A'raaf
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَنَادَىٰٓ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَـٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ 44 ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ كَـٰفِرُونَ 45
اور پکار کر کہیں گے جنتی،دوزخیوں کو کہ تحقیق پایا ہم نے جووعدہ کیا تھا ہم سے ہمارے رب نے سچا،’توکیا پایا ہے تم نے بھی جو وعدہ کیا تھا تمھارے رب نے تم سے،سچا؟کہیں گے وہ ہاں، پھر اعلان کرے گا ایک اعلان کرنے والا درمیان ان کے کہ لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے(44) وہ لوگ جو روکتے تھے اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے تھے اس میں کجی،اور وہ ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے تھے(45)
[45,44] اللہ تعالیٰ، یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اہل ایمان اور کفار جنت اور جہنم میں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہو جائیں گے اور وہاں سب کچھ ویسا ہی پائیں گے جیسا انبیا و رسل نے ان کو خبر دی تھی اور جیسا کہ ثواب و عقاب کے بارے میں انبیا کی لائی ہوئی کتابوں میں تحریر تھا، فرماتا ہے کہ اہل جنت جہنمیوں کو پکار کر کہیں گے ﴿ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا ﴾ ’’کہ جو وعدہ ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچاپالیا۔‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے اور نیک عمل کرنے پر جنت کا وعدہ کیا تو ہم نے اس کے وعدہ کو سچا پایا، اس نے ہمیں جنت میں داخل کر دیا ہم نے وہاں وہ سب کچھ دیکھا جو اس نے ہمارے لیے بیان کیا تھا ﴿ فَهَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا ﴾’’بھلا جو وعدہ تمھارے رب نے تم سے کیا تھا، کیا تم نے بھی اسے سچا پایا؟‘‘ یعنی تمھارے کفر اور معاصی پر تمھارے رب نے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اسے سچا پایا؟﴿ قَالُوۡا نَعَمۡ ﴾’’وہ کہیں گے، ہاں !‘‘ ہم نے اسے سچ پایا۔ پس تمام مخلوق کے سامنے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بات سے زیادہ کس کی بات سچی ہو سکتی ہے؟ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے اور معاملہ حق الیقین بن جائے گا۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے وعدے پر خوش ہوں گے، کفار بھلائی سے مایوس ہو جائیں گے۔ وہ اپنے بارے میں خود اقرار کریں گے کہ وہ عذاب کے مستحق ہیں ۔﴿ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا۔‘‘ پکارنے والا اہل جہنم اور اہل جنت کے درمیان پکار کر کہے گا ﴿ اَنۡ لَّعۡنَةُ اللّٰهِ ﴾ ’’کہ لعنت ہے اللہ کی‘‘ یعنی ہر بھلائی سے بُعد اور محرومی ﴿ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں پر‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے اپنی رحمت کے دروازے کھولے مگر انھوں نے اپنے ظلم کی وجہ سے ان سے منہ موڑا، خود اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور دوسروں کو بھی اس راستے پر نہ چلنے دیا۔ پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا راستہ سیدھا رہے اور اس پر چلنے والے اعتدال کے ساتھ اس پر گامزن رہیں ۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ یہ کفار ﴿يَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا ﴾ ’’ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی‘‘ یعنی سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے منکر تھے‘‘ یہی کفر ہے جو راہ راست سے ان کے انحراف کا باعث بنا اور یہی کفر ہے جو نفس کی شہوات محرمہ کو محور بنانے، آخرت پر عدم ایمان، عذاب سے عدم خوف اور ثواب سے ناامیدی کا موجب بنا۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اہل ایمان پر سایہ کناں ، اس کا فضل ان کے شامل حال اور اس کا احسان ان پر متواتر ہے۔