Al-A'raaf
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
يَـٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَـٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ 35 وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ 36
اے بنی آدم!اگر آئیں تمھارے پاس رسول تم میں سے جو بیان کریں تم پر میری آیتیں،تو جس نے تقویٰ اختیار کیا اور(اپنی) اصلاح کرلی تو نہ ہوگا کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے(35) اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو اور تکبر کیا ان سے، یہ لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(36)
[35] جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو جنت سے نکال دیا تو ان کو رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے آزمایا۔ یہ رسول ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے اور اس کے احکام ان پر واضح کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فضیلت بیان فرمائی جس نے رسولوں کی دعوت پر لبیک کہا اور اس شخص کا خسارہ بیان کیا جس نے رسولوں کی دعوت کا جواب نہ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَمَنِ اتَّقٰى ﴾ ’’پس جس شخص نے تقویٰ اختیار کیا۔‘‘ یعنی جو ان امور سے بچ گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ، مثلاً: شرک اور دیگر کبیرہ اور صغیرہ گناہ ﴿ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’اور اس نے (ظاہری اور باطنی اعمال کی) اصلاح کر لی‘‘ ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔‘‘ یعنی وہ اس شر کے خوف سے مامون ہوں گے جس سے دیگر لوگ خوفزدہ ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’نہ وہ (گزرے ہوئے واقعات پر) غمگین ہوں گے۔‘‘ جب ان سے حزن و خوف کی نفی ہوگئی تو انھیں کامل امن اور ابدی فلاح و سعادت حاصل ہوگئی۔
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَؔكۡبَرُوۡا عَنۡهَاۤ ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا‘‘ یعنی ان آیات پر ان کے دل ایمان لائے نہ ان کے جوارح نے ان آیات کے احکام کی اطاعت کی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ یعنی جس طرح انھوں نے ہماری آیات کی اہانت کی اور ان کی تکذیب پر جمے رہے، اسی طرح ان کو ہمیشہ رہنے والے عذاب کے ذریعے سے رسوا کیا جائے گا۔