Al-An'aam
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَٰسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ 147
اور اگر جھٹلائیں وہ آپ کو تو کہہ دیجیے تمھارا رب وسیع رحمت والا ہےاور نہیں پھیراجاتا اس کا عذاب مجرم قوم سے(147)
[147] یعنی اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے ان کو دعوت دیتے رہیے اور ان کو آگاہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ﴿ ذُوۡ رَحۡمَةٍ وَّاسِعَةٍ ﴾ ’’بے پایاں رحمت کا مالک ہے‘‘ جو تمام مخلوقات کو شامل ہے۔ لہذا اس کی رحمت کی طرف اس کے اسباب کے ذریعے سے سبقت کرو۔ جس کی اساس اور بنیاد محمد مصطفیﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی کی تصدیق ہے۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُهٗ عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اس کا عذاب گناہ گاروں سے نہیں ٹالا جاتا‘‘ یعنی جن کے جرائم اور گناہ بہت بڑھ گئے ہوں ، اس لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینے والے جرائم سے بچو، ان میں سب سے بڑا جرم محمد مصطفی صلوات اللہ علیہ وسلامہ کی تکذیب ہے۔