سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Adh-Dhaariyat
سورت 51

Adh-Dhaariyat

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 54–55

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍ 54 وَذَكِّرْ فَإِنَّ ٱلذِّكْرَىٰ تَنفَعُ ٱلْمُؤْمِنِينَ 55

سو آپ منہ پھیر لیں ان سے، پس نہیں ہیں آپ قابلِ ملامت (54) اور آپ نصیحت کرتے رہیں، پس بلاشبہ نصیحت نفع دیتی ہے مومنوں کو(55)

[54] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کو اعراض کرنے اور جھٹلانے والوں سے روگردانی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَتَوَلَّ عَنۡهُمۡ﴾ یعنی آپ ان کی پروا کیجیے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجیے، اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے ﴿ فَمَاۤ اَنۡتَ بِمَلُوۡمٍ﴾ ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ ﷺ کے سپرد کی گئی تھی وہ آپ نے پوری کر دی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔

[55]﴿ وَّذَكِّرۡ فَاِنَّ الذِّكۡرٰى تَنۡفَعُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’اور نصیحت کیجیے، بلاشبہ نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘ اور تذکیر کی دو اقسام ہیں:(۱)ایسے امور کے ذریعے سے تذکیر جس کی تفصیل کی معرفت حاصل نہیں ، البتہ وہ فطرت اور عقل کے ذریعے سے مجمل طور پر معروف ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل میں خیر سے محبت اور خیر کو ترجیح دینا ، شر کو ناپسند کرنا اور اس سے دور بھاگنا ودیعت کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اس کے موافق ہے۔ پس شریعت کا ہر امر و نہی، تذکیر ہے۔ تذکیر کامل یہ ہے کہ مامورات شریعت میں بھلائی، حسن اور انسانی مصالح پوشیدہ ہیں ان کا ذکر کیا جائے اور منہیات میں جو نقصانات پنہاں ہیں ان کا ذکر کیا جائے۔(۲) تذکیر کی دوسری قسم ان امور کے ذریعے سے تذکیر ہے جو اہل ایمان کو معلوم ہیں۔ مگر غفلت اور مدہوشی نے انھیں ڈھانپ رکھا ہے، ان کو ان امور کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے، ان کے سامنے ان باتوں کو مکرر بیان کیا جاتا ہے، تاکہ یہ باتیں ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں، ان کو تنبیہ ہوتی رہے اور جن باتوں کی انھیں یاد دہانی ہوئی ہے ان پر عمل پیرا ہوں۔ نیز یہ کہ ان میں نشاط اور ہمت پیدا ہو جو ان کے لیے فائدے اور بلندی کی موجب ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ نصیحت اور تذکیر مومنوں کو فائدہ دیتی ہے، کیونکہ ان کے پاس جو سرمایۂ ایمان، خشیتِ الٰہی، انابتِ الی اللہ اور اتباع رسول ہے، یہ تمام اوصاف اس بات کے موجب ہیں کہ تذکیر ان کو فائدہ دے اور نصیحت ان کے دل میں اتر جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ فَذَكِّرۡ اِنۡ نَّفَعَتِ الذِّكۡرٰى ؕ۰۰ سَيَذَّكَّـرُ مَنۡ يَّخۡشٰى ۙ۰۰ وَيَتَجَنَّبُهَا الۡاَشۡقَى﴾(الاعلیٰ: 87؍9-11) ’’پس نصیحت کرتے رہیے، اگر نصیحت کوئی فائدہ دے۔ جو خشیت سے بہرہ ور ہے، وہ نصیحت پکڑے گا اور بدبختی کا مارا ہوا اس سے پہلو تہی کرے گا۔‘‘ جس میں ایمان کی رمق ہے نہ نصیحت کو قبول کرنے کی استعداد ہے، اس کو تذکیر اور نصیحت کوئی فائدہ نہیں دیتی، وہ اس شور زدہ زمین کی مانند ہے جس کو بارش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اس قسم کے لوگوں کے پاس اگر تمام نشانیاں بھی آ جائیں تو وہ پھر بھی اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔