Adh-Dhaariyat
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
قُتِلَ ٱلْخَرَّٰصُونَ 10 ٱلَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍ سَاهُونَ 11 يَسْـَٔلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ ٱلدِّينِ 12 يَوْمَ هُمْ عَلَى ٱلنَّارِ يُفْتَنُونَ 13 ذُوقُوا۟ فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ 14
مارے گئے اٹکل پچو کرنے والے (10) وہ لوگ کہ وہ غفلت میں بھولے پڑے ہیں (11) وہ پوچھتے ہیں کب ہو گا دن جزا کا ؟ (12) جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے (13)(کہا جائے گا:) چکھو تم عذاب اپنا ، یہ وہ (عذاب) ہے کہ تھے تم اسے جلدی طلب کرتے (14)
[10] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ قُتِلَ الۡخَرّٰصُوۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہلاک کرے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا، اس کی آیات کا انکار کیا اور باطل میں مشغول ہوئے تاکہ اس کے ذریعے سے حق کو نیچا دکھائیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جس کا وہ علم نہیں رکھتے۔
[11]﴿ الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ غَمۡرَةٍ﴾ ’’جو بے خبری میں ہیں۔‘‘ یعنی وہ کفر، جہالت اور ضلالت کی موجوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ﴿ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اور بھولے ہوئے ہیں۔‘‘
[12]﴿ يَسۡـَٔلُوۡنَ﴾ وہ شک اور تکذیب کے طور پر پوچھتے ہیں:ان کو کب دوبارہ اٹھایا جائے گا؟ انھوں نے یہ سوال حیات بعد الموت کو بعید سمجھتے ہوئے کیا تھا۔
[14،13] ان کے حال اور برے ٹھکانے کے بارے میں مت پوچھ ﴿ يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾ ’’ہاں یہ وہ دن ہے کہ یہ آگ پر الٹے سیدھے پڑیں گے۔‘‘ یعنی جس دن انھیں ان کے خبث باطن اور خبث ظاہر کے سبب سے ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿ ذُوۡقُوۡا فِتۡنَتَكُمۡ﴾ آگ اور عذاب کا مزا چکھو یہ اس فتنے کے اثرات ہیں جس میں وہ مبتلا ہوئے، جس نے انھیں کفر اور گمراہی میں دھکیل دیا تھا۔ ﴿ هٰؔذَا﴾ یہ عذاب جس میں تم ڈال دیے گئے ہو ﴿ الَّذِيۡ كُنۡتُمۡ بِهٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠﴾ ’’وہی ہے جس کے لیے تم جلدی مچایا کرتے تھے۔‘‘ پس اب مختلف انواع کی عقوبتوں، سزاؤ ں، زنجیروں، بیڑیوں، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کا مزہ چکھو۔