Al-Maaida
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَـٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ 7
اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو (جو ہوئی) تم پر اور اس عہد کو جو معاہدہ کیا اس نے تم سے ساتھ اس کے، جب کہا تم نے، سنا ہم نے اور اطاعت کی ہم نےاور ڈرو اللہ سے، بے شک اللہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے(7)
[7]اللہ تبارک و تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کی عطا کردہ دینی اور دنیاوی نعمتوں کا قلب اور زبان سے ذکر کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے دائمی ذکر میں اس کے لیے شکر اور محبت کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کا دل اس کے احسان کی معرفت سے لبریز ہو جاتا ہے، دینی نعمتوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے بارے میں نفس کی خود پسندی زائل ہوتی ہے۔﴿وَمِيۡثَاقَهُ ﴾ ’’(اور یاد کرو) اس عہد کو بھی۔‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے میثاق کو یاد کرو ﴿الَّذِيۡ وَاثَقَكُمۡ ﴾ ’’جس کا تم سے قول لیا تھا۔‘‘ یعنی وہ عہد جو اس نے تم سے لیا۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بندوں نے اپنے نطق زبان سے اس عہد و میثاق کا اقرار کیا تھا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لا کر اللہ اور رسول کی اطاعت کا التزام کیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿اِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا﴾ ’’جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (اللہ کا حکم) سن لیا اور قبول کرلیا۔‘‘ یعنی تو نے اپنی آیات قرآنیہ اور کونیہ کے ذریعے سے ہمیں جو دعوت دی، ہم نے اسے فہم، اطاعت اور فرماں برداری کے ساتھ سنا۔ تو نے جن امور پر عمل پیرا ہونے اور جن سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ یہ ظاہری اور باطنی تمام شرعی احکام کو شامل ہے۔اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے اس عہد کو یاد رکھتے ہیں اور یہ عہد ہر وقت انھیں ذہن نشیں رہتا ہے اور جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا ہے اسے کامل طریقے سے ادا کرنے کے حریص ہیں ۔ ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ﴾ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴾ ’’کچھ شک نہیں کہ اللہ دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے۔‘‘ یعنی دل میں جو افکار، اسرار اور خیالات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے ، لہٰذا اس بات سے ڈرو کہ تمھارے دلوں میں موجود کسی ایسی بات کی اسے اطلاع ہو جس سے وہ راضی نہیں یا تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہو جسے وہ ناپسند کرتا ہے اور اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اللہ کے بندوں کی خیر خواہی سے آباد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمھاری نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دے گا کیونکہ اسے علم ہے کہ تمھارے دل درست ہیں ۔