Al-Hujuraat
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوٓا۟ أَن تُصِيبُوا۟ قَوْمًۢا بِجَهَـٰلَةٍ فَتُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَـٰدِمِينَ 6
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر لائے تمھارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر تو تحقیق کر لیا کرو (اس کی، ایسا نہ ہو) کہ تکلیف پہنچاؤ تم کسی قوم کو نادانی سے، پھر ہو جاؤ تم اس پر جو کیا تم نے نادم(6)
[6] یہ بھی ان آداب میں شامل ہے جن پر عقل مند لوگ عمل پیرا ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو وہ اس کی خبر کی تحقیق کر لیا کریں اور تحقیق کے بغیر اس پر عمل نہ کریں، کیونکہ اس میں بہت بڑا خطرہ اور گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ جب فاسق و فاجر شخص کی خبر کو صادق اور عادل شخص کی خبر کے طور پر لیا جائے، اور اس کے موجب اور تقاضے کے مطابق حکم لگایا جائے، تو اس خبر کے سبب سے ناحق جان و مال کا اتلاف ہو گا جو ندامت کا باعث ہو گا۔ فاسق و فاجر کی دی ہوئی خبر سننے کے بعد اس کی تحقیق و تبیین واجب ہے۔ اگر دلائل اور قرائن اس کی صداقت پر دلالت کرتے ہوں تو اس پر عمل کیا جائے اور اس کی تصدیق کی جائے، اور اگر دلائل و قرائن اس کے کذب پر دلالت کریں تو اس کو جھوٹ سمجھا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے۔اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صادق و عادل کی خبر مقبول، کاذب کی خبر مردود اور فاسق کی خبر میں توقف ہے۔ بنابریں سلف نے خوارج کی بہت سی روایات کو قبول کیا ہے، جو صداقت میں معروف تھے۔ اگرچہ وہ فاسق تھے۔