سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ash-Shura
سورت 42

Ash-Shura

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 29

وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِن دَآبَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَآءُ قَدِيرٌ 29

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے پیدا کرنا آسمانوں اور زمین کا اور جو پھیلائے اس نے ان میں جاندار، اور وہ ان کے جمع کرنے پر، جب چاہے، قادر ہے(29)

[29]﴿وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ﴾’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی اس کی عظیم قدرت کہ جس میں مُردوں کو زندہ کرنا بھی ہے، کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿ خَلۡقُ ﴾ ’’پیدائش‘‘ ان ﴿السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ ان کی عظمت اور وسعت کے ساتھ، وہ اللہ کی قدرت اور وسعت سلطنت پر دلالت کرتی ہے اور ان کی تخلیق میں مہارت اور مضبوطی ہے، وہ اس کی حکمت پر اور ان کے اندر جو منافع اور مصالح رکھے گئے ہیں، وہ اس کی رحمت کی دلیل ہیں اور یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی الوہیت باطل ہے۔ ﴿وَمَا بَثَّ فِيۡهِمَا مِنۡ دَآبَّةٍ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے آسمانوں اور زمین میں جانداروں کی اصناف پھیلائیں اور ان کو اپنے بندوں کے لیے منافع اور مصالح قرار دیا۔ ﴿وَهُوَ عَلٰى جَمۡعِهِمۡ ﴾ یعنی وہ تمام مخلوق کو ان کے مرنے کے بعد قیامت کے موقف کے لیے جمع کرنے پر ﴿اِذَا يَشَآءُ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’جب چاہے، خوب قادر ہے‘‘ پس اس کی قدرت اور مشیت ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا وقوع، خبر صادق کے وجود پر موقوف ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین اور ان کی کتابوں کی طرف سے اس کے وقوع کی خبر نہایت تواتر کے ساتھ دی گئی ہے۔