Ash-Shura
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ ٱللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ وَيَمْحُ ٱللَّهُ ٱلْبَـٰطِلَ وَيُحِقُّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَـٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ 24
کیا وہ کہتے ہیں گھڑ لیا ہے اس نے اوپر اللہ کے جھوٹ؟ پس اگر چاہے اللہ تو مہر لگا دے اوپر آپ کے دل کے اور مٹاتا ہے اللہ باطل کو اور ثابت کرتا ہے حق کو اپنی باتوں سے، بلاشبہ وہ خوب جانتا ہے راز سینوں کے (24)
[24] کیا رسول (ﷺ) کو جھٹلانے والے یہ لوگ اپنی جسارت اور کذب بیانی کی بنا پر کہتے ہیں :﴿افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا ﴾ ’’اس (رسول) نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے۔‘‘ پس انھوں نے آپ پر بدترین اور قبیح ترین بہتان لگایا، وہ یہ کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا جبکہ آپ اس سے بری ہیں، حالانکہ وہ آپ کی صداقت اور امانت کو خوب جانتے ہیں، وہ اس صریح جھوٹ کی کیوں کر جرأت کر رہے ہیں؟ بلکہ اس ذریعے سے وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں جرح و قدح ہے کہ اس نے آپ کے لیے اس عظیم دعوت کو ممکن بنایا جو ان کے زعم کے موجب زمین کے اندر سب سے بڑے فساد کو متضمن ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس صراحت کے ساتھ نبوت کا دعویٰ کرنے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا اختیار بخشا، مزید برآں وہ ظاہری معجزات، بڑے بڑے دلائل، فتح مبین اور آپ کی مخالفت کرنے والوں پر غلبہ عطا کر کے آپ کی تائید کرتا ہے۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ اس دعوت کو اس کی جڑ اور بنیاد سے ختم کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ رسول (ﷺ) کے قلب پر مہر لگا دے تاکہ اس کے اندر کوئی بھلائی داخل نہ ہو، جب آپ کے قلب پر مہر لگا دی جائے گی تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ جو کچھ لے کر آئے ہیں اس کی صحت پر یہ اس کی قطعی دلیل اور آپ کے نبوت کے دعویٰ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوی ترین شہادت ہے، اس سے عظیم اور اس سے بڑی کوئی اور شہادت نہیں مل سکتی۔ بنابریں یہ اس کی حکمت، رحمت اور سنت جاریہ ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اسے غلبہ حاصل ہوتا ہے، مگر انجام کار باطل نیست و نابود ہوتا ہے۔ ﴿وَيُحِقُّ الۡحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ﴾ وہ اپنے سچے وعدے اور احکام تکوینی کے ذریعے سے حق کو حق کر دکھاتا ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں، نیز اپنے ان کے کلمات دینیہ کے ذریعے سے بھی حق کو حق کر دکھاتا ہے جو ان احکام حق کو ثابت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیے ہیں اور انھیں قلوب میں جاگزیں کرتے ہیں اور خرد مندوں کو بصیرت سے بہرہ مند کرتے ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ کا حق کو حق ثابت کرنا یہ ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لیے باطل کو مقرر کر دیتا ہے۔ جب باطل حق کا مقابلہ کرتا ہے تو حق اپنے دلائل و براہین کے ساتھ باطل پر حملہ آور ہوتا ہے، تب نور حق اور اس کی ہدایت ظاہر ہوتے ہیں جس سے باطل مضمحل ہو کر نیست و نابود ہو جاتا ہے اور ہر ایک پر باطل کا بطلان واضح اور ہر ایک کے لیے حق پوری طرح ظاہر ہو جاتا ہے۔ ﴿اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ یعنی جو کچھ دلوں میں ہے اور جن اچھے برے اوصاف سے دل متصف ہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور اسے ظاہر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔