Al-Ghaafir
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَإِذْ يَتَحَآجُّونَ فِى ٱلنَّارِ فَيَقُولُ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا نَصِيبًا مِّنَ ٱلنَّارِ 47 قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا كُلٌّ فِيهَآ إِنَّ ٱللَّهَ قَدْ حَكَمَ بَيْنَ ٱلْعِبَادِ 48 وَقَالَ ٱلَّذِينَ فِى ٱلنَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ يُخَفِّفْ عَنَّا يَوْمًا مِّنَ ٱلْعَذَابِ 49 قَالُوٓا۟ أَوَلَمْ تَكُ تَأْتِيكُمْ رُسُلُكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۚ قَالُوا۟ فَٱدْعُوا۟ ۗ وَمَا دُعَـٰٓؤُا۟ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ 50
اور جب وہ باہم جھگڑیں گے جہنم میں، پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنھوں نے تکبر کیا تھا، بلاشبہ ہم تو تھے تمھارے تابع، کیا پس تم ہٹاؤ گے ہم سے کچھ حصہ آگ سے؟ (47) کہیں گے وہ لوگ جنھوں نے تکبر کیا تھا، بے شک ہم سب ہی اس(آگ) میں ہیں، بلاشبہ اللہ نے تحقیق فیصلہ (بھی)کردیا ہے درمیان بندوں کے (48) اورکہیں گے وہ (سب)لوگ جو آگ میں ہوں گے دربانان جہنم سے، دعا کرو تم اپنے رب سے ہلکا کر دے وہ ہم سے کسی دن کچھ عذاب(49) وہ کہیں گے، کیا نہیں تھے آتے تمھارے پاس تمھارے رسول ساتھ واضح دلائل کے؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں، وہ کہیں گے، پس تم (خود ہی) دعا کرو اور نہیں ہو گی دعا کافروں کی مگر تباہی ہی میں (50)
[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بے فائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِذۡ يَتَحَآجُّوۡنَ فِي النَّارِ ﴾’’اور جب وہ دوزخ میں باہم جھگڑیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروکاروں سے بیزاری اور براء ت کا اظہار کریں گے۔﴿فَيَقُوۡلُ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس ضعفاء کہیں گے۔‘‘ یعنی پیروکار ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ان قائدین سے جنھوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنھوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا ﴾ ’’ہم تمھارے تابع تھے۔‘‘ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور ہمارے سامنے شرک اور شر کو مزین کیا۔ ﴿فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا نَصِيۡبًا مِّنَ النَّارِ ﴾ ’’تو کیا تم دوزخ کے عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کرسکتے ہو۔‘‘ خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔
[48]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑے آدمی کہیں گے۔‘‘ یعنی اپنی بے بسی اور سب پر حکم الٰہی کے نفاذ کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ﴿اِنَّا كُلٌّ فِيۡهَاۤ١ۙ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ حَكَمَ بَيۡنَ الۡعِبَادِ ﴾ ’’ہم سب اس (دوزخ) میں ہیں، بے شک اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا۔‘‘ یعنی ہر ایک کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جس میں اضافہ یا کمی نہیں ہو گی اور حکیم نے جو فیصلہ کیا ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوگا۔
[49]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ فِي النَّارِ ﴾ ’’جو لوگ آگ میں ہوں گے، کہیں گے۔‘‘ یعنی وہ تکبر کرنے والے اور کمزور لوگ جو آگ میں ڈالے گئے تھے ﴿لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادۡعُوۡا رَبَّكُمۡ يُخَفِّفۡ عَنَّا يَوۡمًا مِّنَ الۡعَذَابِ ﴾ ’’دوزخ کے داروغوں سے: اپنے رب سے دعا کرو کہ ایک روز تو ہم سے عذاب ہلکا کردے۔‘‘ شاید اس سے کچھ راحت حاصل ہو۔
[50]﴿قَالُوۡۤا ﴾ تو جہنم کے داروغے ان کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے اور ان پر واضح کرتے ہوئے کہ سفارش اور چیخ و پکار ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی، یہ کہیں گے:﴿اَوَلَمۡ تَكُ تَاۡتِيۡكُمۡ رُسُلُكُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’کیا تمھارے پاس تمھارے رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟‘‘ ان دلائل سے تم پر حق اور صراط مستقیم واضح ہوتا اور تمھیں یہ معلوم ہوتا کہ کون سی چیز تمھیں اللہ کے قریب کرتی ہے اور کون سی چیز اللہ سے دور کرتی ہے۔ ﴿قَالُوۡا بَلٰى ﴾ ’’وہ کہیں گے، کیوں نہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے رسول دلائل و معجزات کے ساتھ ہماری طرف معبوث ہوئے اور ہم پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی مگر ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور حق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی اس سے عناد رکھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ جہنم کے داروغے جہنمیوں سے، ان کی پکار اور سفارش سے بیزار ہو کر کہیں گے:﴿فَادۡعُوۡا ﴾ تم اللہ کو پکارو، مگر کیا یہ پکار تمھیں کوئی فائدہ دے گی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:﴿وَمَا دُعٰٓؤُا الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ ﴾ یعنی ان کی دعا اور پکار اکارت جائے گی کیونکہ کفر تمام اعمال کو ساقط کر دیتا ہے اور دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔