سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
سورت 3

Aal-i-Imraan

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحُكْمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا۟ عِبَادًا لِّى مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن كُونُوا۟ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ ٱلْكِتَـٰبَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ 79 وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا۟ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِٱلْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ 80

نہیں ہے لائق واسطے کسی بشر کے کہ دے اس کو اللہ کتاب اور حکم اور نبوت، پھر کہے وہ واسطے لوگوں کے کہ ہو جاؤ تم بندے میرے، اللہ کو چھوڑ کر، لیکن (وہ تو کہے گا) ہو جاؤ تم رب والے، بوجہ اس کے کہ ہو تم تعلیم دیتے کتاب کی اور بوجہ اس کے کہ ہو تم (خود بھی) پڑھتے(79) اور نہیں حکم دے گا وہ تم کو اس بات کا (بھی) کہ بنا لو تم فرشتوں کو اور نبیوں کو رب، کیا وہ حکم دے گا تمھیں کفر کا، بعد اس کے کہ تم ہو چکے مسلمان؟(80)

[80-79] اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ نبیﷺنے کچھ اہل کتاب کو ایمان لانے اور اطاعت کرنے کی تبلیغ کی تو انھوں نے کہا: ’’محمد(ﷺ)کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ آپ کی بھی عبادت کیا کریں؟‘‘ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا:﴿ مَا كَانَ لِبَشَرٍ ﴾ ’’کسی انسان کو یہ لائق نہیں‘‘ یعنی جس انسان پر اللہ تعالیٰ یہ احسان کرے کہ اس پر کتاب نازل کرے، اسے علم سکھائے اور مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجے، ایسے انسان کے لیے ناممکن اور محال ہے کہ ﴿ يَقُوۡلَ لِلنَّاسِ كُوۡنُوۡا عِبَادًا لِّيۡ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔‘‘ ایسی بات کا کسی نبی کی زبان سے ادا ہونا سب سے بڑی محال چیز ہے۔ کیونکہ یہ مطالبہ اتنا قبیح ہے کہ اس سے قبیح کوئی اور حکم نہیں ہوسکتا۔ اور انبیاء کرام کو کمال کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ کمال کسی کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ وہ حکم بھی ایسے کاموں کا دیتے ہیں جو ان کے حالات سے مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ اور برے کاموں سے منع کرنے میں بھی کوئی ان سے بڑھ نہیں سکتا، اس لیے فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ كُوۡنُوۡا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ الۡكِتٰبَ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَدۡرُسُوۡنَ﴾ یعنی وہ تو یہی حکم دیں گے کہ لوگ ربانی بن جائیں۔ ربانی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم ہوں، دانا ہوں، حلم اور بردباری سے موصوف ہوں، لوگوں کو تعلیم دیں اور ان کی تربیت کریں، پہلے علم کے چھوٹے (اور آسان) مسئلے بتائیں۔ پھربڑے (اور پیچیدہ) مسائل سمجھائیں، خود بھی عمل کریں۔ چنانچہ وہ علم و عمل کا حکم دیتے ہیں۔ جس پر سعادت کا دارومدار ہے۔ جس میں کوئی چیز چھوٹ جائے تو نقص و خلل پیدا ہوجاتا ہے۔ ﴿ بِمَا كُنۡتُمۡ تُعَلِّمُوۡنَ ﴾ میں ’’با‘‘ سببیہ ہے۔ یعنی تم ربانی بن جاؤ اس سبب سے کہ تم دوسروں کو تعلیم دیتے ہو۔ اس میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ تم خود اہل علم ہو۔ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت پڑھتے ہو۔ اس کے پڑھنے پڑھانے سے علم پختہ ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَاۡمُرَؔكُمۡ اَنۡ تَتَّؔخِذُوا الۡمَلٰٓىِٕكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ اَرۡبَابًا ﴾ ’’اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ تمھیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنالینے کا حکم دے‘‘ یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ یعنی وہ تمھیں نہ اپنی ذات کی عبادت کا حکم دے گا نہ کسی بھی دوسری مخلوق کی عبادت کا حکم دے گا خواہ وہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا کوئی اور ﴿ اَيَاۡمُرُؔكُمۡ بِالۡكُفۡرِ بَعۡدَ اِذۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ﴾ ’’کیا وہ تمھارے مسلمان ہونے کے بعد پھر کفر کا حکم دے گا؟‘‘ یہ نہیں ہوسکتا۔ جس کو نبوت کا شرف حاصل ہو، اس سے کسی ایسی بات کا تصور بھی محال ہے۔ جو شخص کسی نبی کی طرف اس قسم کی کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ بہت بڑے گناہ کا بلکہ کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔