سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
سورت 3

Aal-i-Imraan

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 183–184

ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ 183 فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُو بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلزُّبُرِ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُنِيرِ 184

وہ لوگ جنھوں نے کہا: بلاشبہ اللہ نے عہد لیا ہے ہم سے یہ کہ نہ ایمان لائیں ہم کسی رسول پر، یہاں تک کہ لائے وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کہ کھا جائے اسے آگ، کہہ دیجیے! تحقیق آئے تمھارے پاس کئی رسول پہلے مجھ سے ساتھ واضح دلائل کے اور ساتھ اس کے جو کہا تم نے، پھر کیوں قتل کیا تم نے ان کو اگر ہو تم سچے؟(183) پس اگر جھٹلایا ہے انھوں نے آپ کو تو تحقیق جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے، لائے تھے وہ واضح دلائل اور صحیفے اور کتاب روشن(184)

[183] اللہ تعالیٰ ان افترا پردازوں کے احوال کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ جو یہ کہتے ہیں ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ہم سے عہد لے چکا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ ﴿ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ ﴾ ’’ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ (آسمان سے نازل ہو کر) کھا لے۔‘‘پس انھوں نے یہ افترا پردازی کر کے اللہ تعالیٰ پر کذب بیانی اور انبیاء و مرسلین علیہ السلام کے معجزات کو صرف اسی ایک معجزے میں محصور کر کے یکجا کر دیا نیز یہ کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہیں لائیں گے جس نے ایسی قربانی نہ کی ہو جسے آگ نے کھایا ہو۔ اس لیے وہ رسول اللہﷺپر ایمان نہ لانے کے سلسلے میں اپنے رب کی اطاعت اور اس کے عہد کا التزام کر رہے ہیں۔ یہ چیز معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسول مبعوث فرمائے ان سب کی معجزات و براہین کے ذریعے سے تائید کی۔ جس پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے اور جس معجزے کا انھوں نے مطالبہ کیا انبیاء علیہ السلام اس سے قاصر نہیں رہے۔ اس کے باوجود انھوں نے انبیاء علیہ السلام کی دعوت کو بہتان و افترا کہہ کر اس کا التزام نہ کیا اور اسے باطل کہا اور اس پر عمل نہ کیا۔بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺکو حکم دیا کہ وہ ان سے کہہ دیں ﴿ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِيۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ ’’مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمھارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے۔‘‘ یعنی وہ دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت کی تائید کرتے تھے ﴿ وَبِالَّذِيۡ قُلۡتُمۡ ﴾ اور وہ معجزہ لے کر بھی آئے جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، یعنی انھوں نے وہ قربانی بھی کی جس کو آگ نے کھایا ﴿ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ۠ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا؟‘‘ یعنی اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ ہم تو رسول پر اس وقت ایمان لاتے ہیں جب وہ قربانی کرے اور آگ آسمان سے نازل ہو کر اسے کھا لے تو پھر تم یہ معجزہ دکھانے والے نبیوں کو قتل کیوں کرتے تھے۔ پس اس سے ان کا جھوٹ اور تناقض واضح ہو گیا۔

[184] پھر اپنے رسولﷺکو ان الفاظ میں خوشخبری سنائی ہے ﴿ فَاِنۡ كَذَّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’پس اگر انھوں نے تمھاری تکذیب کی ہے تو تم سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کرنا ان ظالموں کی عادت اور وتیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب اس وجہ سے نہ تھی کہ وہ معجزہ دکھانے سے قاصر رہے یا دلیل واضح نہ تھی بلکہ ﴿ جَآءُوۡ بِالۡبَيِّنٰتِ ﴾ یعنی وہ تو دلائل عقلیہ اور براہین نقلیہ لے کر مبعوث ہوئے ﴿ وَالزُّبُرِ ﴾ ان کے لیے آسمان سے لکھی ہوئی کتابیں نازل ہوئیں ان کتابوں کو رسول کے سوا کوئی اور نہیں لا سکتا۔ ﴿ وَالۡكِتٰبِ الۡمُنِيۡرِ﴾ یعنی احکام شرعی کو روشن اور عیاں کرنے والی اور یہ احکام الٰہی جن محاسن عقلی پر مشتمل ہیں ان کو بیان کرنے والی ہیں نیز سچی خبروں کو روشن کرتی ہے۔ لہٰذا جب ان اوصاف کے حامل رسولوں پر ایمان لانا ان کی عادت نہیں تو ان کا معاملہ آپ کو غمزدہ نہ کر دے۔