Al-Hajj
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ وَٱلْفُلْكَ تَجْرِى فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ وَيُمْسِكُ ٱلسَّمَآءَ أَن تَقَعَ عَلَى ٱلْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ 65 وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَكَفُورٌ 66
کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے تابع کر دیا واسطے تمھارے جو کچھ زمین میں ہے اور کشتیوں کو جو چلتی ہیں سمندر میں ساتھ اس کے حکم کے اور وہی تھامے رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گر پڑے وہ اوپر زمین کے مگر ساتھ اسی کے حکم کے بلاشبہ اللہ لوگوں پر البتہ نہایت شفقت کرنے والا ، بڑا مہربان ہے (65) اور وہی ہے جس نے زندہ کیا تمھیں ، پھر وہ مارے گا تمھیں ، پھر (دوبارہ) وہ زندہ کرے گا تمھیں ، بے شک انسان البتہ بڑا ناشکراہے (66)
[65] کیا تم نے اپنی آنکھ اور دل سے اپنے رب کی بے پایاں نعمت اور بے حد احسانات کو نہیں دیکھا؟ ﴿ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمۡ مَّا فِي الۡاَرۡضِ ﴾یعنی اللہ تعالیٰ نے حیوانات نباتات اور جمادات کو تمھارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ روئے زمین کی تمام موجودات کو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کے لیے مسخر کر دیا ہے، چنانچہ زمین کے تمام حیوانات کو انسان کی سواری، نقل و حمل، کام کاج، کھانے اور مختلف انواع کے استفادے کے لیے مسخر کر دیا اور اس کے تمام درختوں اور پھلوں کو بھی مسخر کر دیا تاکہ وہ ان سے خوراک حاصل کر سکے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو درخت لگانے زمین سے غلہ حاصل کرنے اور معدنیات نکالنے کی طاقت عطا کی تاکہ وہ ان سے استفادہ کرے۔﴿ وَالۡفُلۡكَ ﴾ یعنی تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کر دیا ﴿ تَجۡرِيۡ فِي الۡبَحۡرِ بِاَمۡرِهٖ﴾ وہ سمندوں میں تمھیں اور تمھارے تجارتی سامان کو اٹھائے پھرتی ہیں اور تمھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہیں ، نیز تم سمندر سے موتی نکالتے ہو جنھیں تم زیور کے طور پر پہنتے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تم پر رحمت ہے کہ ﴿وَيُمۡسِكُ السَّمَآءَؔ اَنۡ تَقَعَ عَلَى الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس نے آسمان کو زمین پر گرنے سے تھام رکھا ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی قدرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتا اور زمین پر موجود ہر چیز کو تلف اور ہر انسان کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يُمۡسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ١ۚ ۬ وَلَىِٕنۡ زَالَتَاۤ اِنۡ اَمۡسَكَهُمَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًا ﴾(فاطر:35؍41) ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تھام رکھا ہے اگر وہ دونوں ٹل (ڈول)جائیں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت حلیم اور بخش دینے والا ہے۔ ‘‘﴿ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ان پر ان کے والدین سے اور خود ان سے زیادہ مہربان ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھلائی چاہتا ہے اور وہ خود برائی اور ضرر چاہتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے ان تمام اشیاء کو ان کے لیے مسخر کر دیا ہے۔
[66]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَحۡيَاكُمۡ ﴾ ’’اور وہی ہے جس نے تمھیں زندہ کیا۔‘‘ اور تمھیں عدم سے وجود میں لایا ﴿ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ﴾ پھر وہ تمھیں زندہ کرنے کے بعد مارے گا ﴿ ثُمَّ يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ پھر تمھارے مرنے کے بعد تمھیں دوبارہ زندہ کرے گا تاکہ نیک کو اس کی نیکی اور بد کو اس کی بدی کا بدلہ دے۔ ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ﴾ ’’بے شک انسان۔‘‘ یعنی جنس انسان ، سوائے اس کے جس کو اللہ تعالیٰ بچا لے ﴿ لَكَفُوۡرٌ ﴾ ’’ناشکرا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اور اللہ تعالیٰ کا ناسپاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ بسااوقات وہ دوبارہ اٹھائے جانے کا اور اپنے رب کی قدرت کا انکار کرتا ہے۔