سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Maryam
سورت 19

Maryam

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 97–98

فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ ٱلْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِۦ قَوْمًا لُّدًّا 97 وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًۢا 98

پس یقینا آسان کر دیا ہے ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں تاکہ آپ خوشخبری دیں اس کے ساتھ پرہیز گاروں کواور ڈرائیں اس کے ساتھ جھگڑالو قوم کو (97) اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے، پہلے ان سے قومیں ، کیا آپ محسوس کرتے ہیں ان میں سے کسی ایک کو (آنکھ یا ہاتھ سے)؟ یا آپ سنتے ہیں ان کی کوئی بھنک بھی؟ (98)

[97] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی نعمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے رسول اللہﷺ کی زبان اقدس پر اس قرآن کریم کو آسان کیا۔ اس کے الفاظ و معانی کو عام فہم بنایا تاکہ مقصد حاصل ہو اور اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ ﴿ لِتُبَشِّرَ بِهِ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ تاکہ آپ دنیاوی اور اخروی ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے متقین کو بشارت دیں اور ان اسباب کا ذکر کریں جو بشارت کے موجب ہیں ۔ ﴿ وَتُنۡذِرَ بِهٖ قَوۡمًا لُّدًّا﴾ تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جو اپنے باطل میں نہایت سخت اور اپنے کفر میں نہایت قوی ہیں ۔ اس طرح ان پر حجت قائم ہو گی اور ان کے سامنے صراط مستقیم واضح ہو جائے گی۔ تب جو کوئی ہلاک ہو گا تو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو گا اور جو کوئی زندہ رہے گا تو دلیل کی طاقت سے زندہ رہے گا۔

[98] پھر ان کو پہلے لوگوں کی، جنھوں نے انبیاء و مرسلین کو جھٹلایا، ہلاکت کا ذکر کر کے ڈرایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہلاک کر دیا۔‘‘ یعنی قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ جو انبیا کے ساتھ عناد رکھتے اور ان کی تکذیب کرتے تھے۔ جب وہ اپنی سرکشی میں جمے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر ڈالا اور ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ ﴿هَلۡ تُحِسُّ مِنۡهُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ اَوۡ تَسۡمَعُ لَهُمۡ رِكۡزًا ﴾ یہاں (رکز) سے مراد خفیہ آواز ہے یعنی ان لوگوں کے آثار تک باقی نہ رہے۔ بس ان کے قصے باقی رہ گئے جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت ہیں اور ان کی کہانیاں باقی رہ گئیں جو نصیحت کے متلاشی لوگوں کے لیے نصیحت ہیں ۔