Al-Israa
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ ءَايَـٰتٍۭ بَيِّنَـٰتٍ ۖ فَسْـَٔلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهُۥ فِرْعَوْنُ إِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰمُوسَىٰ مَسْحُورًا 101 قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًا 102 فَأَرَادَ أَن يَسْتَفِزَّهُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ فَأَغْرَقْنَـٰهُ وَمَن مَّعَهُۥ جَمِيعًا 103 وَقُلْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ لِبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱسْكُنُوا۟ ٱلْأَرْضَ فَإِذَا جَآءَ وَعْدُ ٱلْـَٔاخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا 104
اور البتہ تحقیق دیے تھے ہم نے موسیٰ کو نو معجزات واضح، پس پوچھ لیجیے آپ بنی اسرائیل سے جب آیا وہ (موسیٰ) ان کے پاس تو کہا اس سے فرعون نے ، بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے موسی! سحر زدہ (101) موسی نے کہا البتہ تحقیق جانتا ہے تو کہ نہیں نازل کیا ان کو مگر رب نے آسمانوں اور زمین کے، واسطے دکھانے کےاور بے شک میں البتہ گمان کرتا ہوں تجھے اے فرعون! ہلاک کیا ہوا (102) پس ارادہ کیا فرعون نے، یہ کہ اکھاڑ دے ان کو اس زمین سے تو غرق کر دیا ہم نے اسےاور ان لوگوں کو جو ساتھ تھے اس کے، سب کو (103) اور کہا ہم نے بعد اس کے بنی اسرائیل سے، رہو تم اس زمین میں ، پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا تو لے آئیں گے ہم تم(سب) کو باہم اکٹھا (104)
[101] یعنی اے رسول! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے… آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی۔ ہم نے آپﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (u) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا، ہم نے انھیں عطا کیے ﴿تِسۡعَ اٰيٰتٍۭؔ بَيِّنٰتٍ ﴾ ’’نو معجزات‘‘ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں سے ایک ہی معجزہ کافی ہے…جیسے اژدہا، عصا، طوفان، ٹڈی دل، جوئیں ، مینڈک، خون، یدبیضاء اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے ﴿ فَسۡـَٔلۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اِذۡ جَآءَهُمۡ فَقَالَ لَهٗ فِرۡعَوۡنُ ﴾ ’’تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو (ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا: ﴿ اِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰمُوۡسٰؔى مَسۡحُوۡرًا ﴾ ’’اے موسیٰ! میں سمجھتا ہوں ، تجھ پر ضرور جادو کر دیا گیا ہے۔‘‘
[102]﴿ قَالَ ﴾ موسیٰu نے فرمایا: اے فرعون! ﴿ لَقَدۡ عَلِمۡتَ ﴾ ’’تجھے علم ہے‘‘ ﴿ مَاۤ اَنۡزَلَ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’نہیں نازل کیا ان معجزات کو‘‘ ﴿ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ بَصَآىِٕرَ﴾ ’’مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو‘‘ اپنی طرف سے بندوں کے لیے۔ پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں ۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ﴿ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّكَ يٰفِرۡعَوۡنُ مَثۡبُوۡرًؔا ﴾ ’’اے فرعون! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض، مذموم، دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔
[104,103]﴿ فَاَرَادَ ﴾ پس فرعون نے ارادہ کیا ﴿ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ۠ مِّنَ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔‘‘ یعنی بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے ﴿فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا ﴾ ’’پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کر دیا‘‘ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَّقُلۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ لِبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا﴾ ’’اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا، رہو تم زمین میں ، پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے‘‘ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دیں گے۔