Al-Hijr
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ 14 لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ 15
اور اگر کھول دیں ہم اوپر ان کے ایک دروازہ آسمان کا، پس ہو جائیں وہ اس میں چڑھنے والے (14) تو بھی وہ کہیں گے یقینا بند کر دی گئی ہیں نظریں ہماری بلکہ ہم لوگ ہیں جادو کیے ہوئے (15)
[15,14] یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوۡ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے‘‘ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَا سُكِّرَتۡ اَبۡصَارُنَا ﴾ ’’باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو‘‘ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلۡ نَحۡنُ قَوۡمٌ مَّسۡحُوۡرُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے‘‘ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا: