سیدھے مواد پر جائیں
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ibrahim
سورت 14

Ibrahim

یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیات 24–26

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ 24 تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ 25 وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ 26

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ کس طرح بیان فرمائی ہے اللہ نے مثال کلمۂ طیبہ کی؟ (کہ وہ ہے) مانند درخت پاکیزہ (کھجور) کے، کہ جڑ اس کی مضبوط ہے اور شاخیں اس کی آسمان میں ہیں (24) لاتا ہے وہ (درخت) پھل اپنا ہر وقت ساتھ حکم اپنے رب کے،اور بیان فرماتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (25) اور مثال کلمۂ خبیثہ (کفرو شرک) کی ہے مانند درخت ناپاک کے، وہ اکھیڑ دیا جاتا ہے اورپر سے زمین کے، نہیں ہے اس کے لیے کوئی قرار (26)

[24]﴿ اَلَمۡ تَرَ كَيۡفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات‘‘ یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے)﴿ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ ﴾ ’’جیسے ایک ستھرا درخت ہے‘‘ اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصۡلُهَا ثَابِتٌ ﴾ ’’اس کی جڑ مضبوط ہے‘‘ یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرۡعُهَا ﴾ ’’اور اس کی شاخیں ۔‘‘ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ﴿ فِي السَّمَآءِ ﴾ ’’آسمان میں ‘‘ اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔

[25]﴿ تُؤۡتِيۡۤ اُكُلَهَا ﴾ ’’وہ پھل لاتا ہے‘‘ ﴿ كُلَّ حِيۡنٍۭؔ بِـاِذۡنِ رَبِّهَا﴾ ’’ہر وقت پر اپنے رب کے حکم سے‘‘ یہی حال شجر ایمان کا ہے، اس کی جڑیں علم و اعتقاد کے اعتبار سے بندۂ مومن کے قلب کی گہرائیوں میں نہایت مضبوطی سے جمی ہوئی ہیں ، اس کی شاخیں یعنی کلمات طیبات، عمل صالح، اخلاق جمیلہ، آداب حسنہ ہمیشہ آسمان کی طرف بلند رہتی ہیں ۔ بندۂ مومن کی طرف سے ایسے اعمال و اقوال بلند ہوتے ہیں ۔ جو شجر ایمان سے نکلتے ہیں ، جن سے بندۂ مومن اور دیگر لوگ منتفع ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ لوگوں کے واسطے مثالیں بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں ‘‘ ان سے جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے اور ان سے جن سے ان کو روکا ہے۔ کیونکہ ضرب الامثال میں ، معانی معقولہ کو امثال محسوسہ کے ذریعے سے قریب لایاجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے معنی میں مراد کی غایت حد تک تبیین اور توضیح ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا حسن تعلیم ہے پوری، کامل اور بے پایاں حمد و ثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ پس یہ بندۂ مومن کے قلب میں کلمہء توحید کا وصف اور اس کے ثبات کا بیان ہے۔

[26] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلمۂ توحید کی ضد کلمۂ کفر اور اس کی شاخوں کا ذکر فرمایا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيۡثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيۡثَةِ﴾ ’’اور گندی بات کی مثال، جیسے گندا درخت ہے‘‘ جو کھانے اور ذائقے میں بدترین درخت ہے اور اس سے مراد اندرائن وغیرہ کا پودا ہے ﴿اِجۡتُثَّتۡ ﴾ یعنی اس پودے کو اکھاڑ لیا گیا ﴿ مِنۡ فَوۡقِ الۡاَرۡضِ مَا لَهَا مِنۡ قَرَارٍ ﴾ ’’زمین کے اوپر سے، اس کو کوئی ٹھہراؤ نہیں ‘‘ یعنی اس پودے کو ثبات حاصل نہیں اس پودے کی رگیں نہیں ہیں جو اس کو سہارا دے کر کھڑا کر سکیں اور نہ یہ کوئی اچھا پھل لاتا ہے بلکہ اس میں پھل پایا بھی جاتا ہے تو انتہائی بدذائقہ۔اسی طرح کفر اور گناہ کی بات قلب میں کوئی فائدہ مند مضبوطی اور ثبات پیدا نہیں کرتی، اس کا ثمرہ بھی قول خبیث اور عمل خبیث کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جو اس کو تکلیف دیتا ہے۔ اس بندے کی طرف سے کوئی عمل صالح اللہ تعالیٰ کی طرف بلند نہیں ہوتا۔ اس قول و عمل سے وہ خود منتفع ہوتا ہے نہ کوئی اور۔