Al-Masad
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍ وَتَبَّ 1 مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ 2 سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ 3 وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ 4 فِى جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍۭ 5
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔