Yunus
یہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں ایک تفسیر ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL کے اندراج میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسے کس نے لکھا یا ترجمہ کیا اور وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے، اور متن کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ سبیل نے اس میں سے کچھ نہیں لکھا اور نہ اس کا ترجمہ کیا۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَـٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ 11
اور اگر جلدی کرتا اللہ واسطے لوگوں کے برائی (پہنچانے) میں مانند جلدی طلب کرنے ان (لوگوں ) کے بھلائی کو تو ، البتہ پورا کر دیا جاتا ان کا وقت مقرر، پھر چھوڑ دیتے ہم ان لوگوں کو جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی، ان کی سرکشی میں ، وہ سرگرداں ، پھرتے (11)
[11] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے... کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے، جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لیے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے، ﴿ لَقُضِيَ اِلَيۡهِمۡ اَجَلُهُمۡ﴾ ’’تو ختم کر دی جائے ان کی عمر‘‘ یعنی عذاب ان کو ملیا میٹ کر دے... مگر اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر ان کا مواخذہ کرے تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات انسان اپنے اہل و اولاد اور مال پر ناراض ہو کر بددعا کر بیٹھتا ہے اگر اس کی بددعا قبول ہو جائے تو سب ہلاک ہو جائیں اور اس سے اسے سخت نقصان پہنچے۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور حکمت والا ہے۔ (یعنی ایسی بددعاؤں کو قبول نہیں فرماتا)﴿ فَنَذَرُ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ﴾ ’’پس ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ‘‘ یعنی وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اسی لیے اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سی چیز انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گی۔ ﴿ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ ﴾ ’’اپنی سرکشی میں ۔‘‘ یعنی اپنے باطل میں ، جس کی بنا پر انھوں نے حق اور حدود سے تجاوز کیا ﴿ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’وہ حیران اور سرگرداں پھرتے ہیں ‘‘ انھیں کوئی راستہ نہیں ملتا اور نہ وہ کسی مضبوط دلیل کی توفیق سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور یہ ان کے ظلم اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کی پاداش میں ان کے لیے سزا ہے۔