Al-Qaari'a
الجواهر الحسان في تفسير القرآنیہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔
متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا
ٱلْقَارِعَةُ 1 مَا ٱلْقَارِعَةُ 2 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ 3 يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ 4 وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ 5 فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ 6 فَهُوَ فِى عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ 7 وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ 8 فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌ 9 وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ 10 نَارٌ حَامِيَةٌۢ 11
وهي مكّيّة بلا خلاف
قَال الجُمْهُورُ: الْقارِعَةُ القيامةُ نَفْسُها، والفَرَاشُ: الطيرُ الذي يَتَسَاقَطُ في النارِ ولا يَزَال يتقحمُ على المصباحِ، وقال الفَرَّاءُ: هو صَغِيرُ الجَرَادِ الذي ينتشر في الأرضِ والهواءِ، وفي البخاريّ: كَالْفَراشِ الْمَبْثُوثِ: كَغْوَغَاءِ الجَرَادِ يركبُ بعضُه بعضاً كذلكَ الناسُ يومئِذٍ يجولُ بعضُهم في بعض، انتهى، والْمَبْثُوثِ هنا معناه: المتفرِّقُ جمعُه وجملتُه مَوْجودةٌ متصلةٌ، والعِهْنُ هو: الصوفُ والنَّفْشُ خَلْخَلَةُ الأَجْزَاءِ وتفريقُها عَن تَرَاصِيها.
وقوله تعالى: فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ قال كثير من المفسرين: المرادُ بالأُمِّ نَفْسُ الهَاوِيَةِ، وهذا كما يقال للأَرْضِ أم الناس لأنها تُؤوِيهِمْ، وقال أبو صالح/ وغيره: المُرَادُ أُم رأْسِه لأَنَّهُمْ يَهْوُونَ عَلى رُؤوسِهم [[أخرجه الطبري (12/ 677) ، (37865) ، وذكره البغوي (4/ 519) ، وابن عطية (5/ 517) ، وابن كثير في «تفسيره» (4/ 543) ، والسيوطي في «الدر المنثور» ، وعزاه لابن جرير.]] وَرَوى المبرِّدُ «أنّ النبيّ ﷺ: قَالَ لرَجُلٍ: لاَ أُمَّ لَكَ، فَقَالَ:
يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَدْعُوني إلَى الهدى وَتَقُولُ: لاَ أُمَّ لَكَ، فَقَالَ- عَلَيْهِ السَّلاَمُ-: إنَّما أَرَدْتُ لاَ نَارَ لَكَ، قال اللَّهُ تعالى: فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ» .