سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr aṭ-Ṭabarī · Az-Zumar
سورت 39

Az-Zumar

جامع البيان في تأويل آي القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 41

إِنَّآ أَنزَلْنَا عَلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ ۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَلِنَفْسِهِۦ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِوَكِيلٍ 41

القول في تأويل قوله تعالى: ﴿إِنَّا أَنزلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ (٤١) ﴾

يقول تعالى ذكره لنبيه محمد ﷺ: إنا أنزلنا عليك يا محمد الكتاب تبيانا للناس بالحقّ ﴿فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ﴾ يقول: فمن عمل بما في الكتاب الذي أنزلناه إليه واتبعه فلنفسه، يقول: فإنما عمل بذلك لنفسه، وإياها بغى الخير لا غيرها، لأنه أكسبها رضا الله والفوز بالجنة، والنجاة من النار. ﴿وَمَنْ ضَلَّ﴾ يقول: ومن جار عن الكتاب الذي أنزلناه إليك، والبيان الذي بيَّناه لك، فضل عن قصد المحجة، وزال عن سواء السبيل، فإنما يجور على نفسه، وإليها يسوق العطب والهلاك، لأنه يكسبها سخط الله، وأليم عقابه، والخزي الدائم. ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ يقول تعالى ذكره: وما أنت يا محمد على من أرسلتك إليه من الناس برقيب ترقب أعمالهم، وتحفظ عليهم أفعالهم، إنما أنت رسول، وإنما عليك البلاغ، وعلينا الحساب.

كما:-

⁕ حدثنا بشر، قال: ثنا يزيد، ثنا سعيد، عن قتادة، قوله: ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ أي بحفيظ.

⁕ حدثنا محمد، قال: ثنا أحمد، قال: ثنا أسباط، عن السديّ، في قوله: ﴿وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلٍ﴾ قال: بحفيظ.