سیدھے مواد پر جائیں
Tafsīr aṭ-Ṭabarī · Al-Israa
سورت 17

Al-Israa

جامع البيان في تأويل آي القرآن

یہ ایک کلاسیکی تفسیر کا عربی متن ہے جیسا Quranic Universal Library (QUL، از Tarteel) کے پاس ہے، QUL کے ڈیٹا کی اس کھلی نقل سے لیا گیا جو spa5k/tafsir_api رکھتا ہے۔ QUL یہ نہیں بتاتی کہ وہ کس چھپے ہوئے ایڈیشن کی پیروی کرتی ہے اور متون کے لیے کوئی لائسنس بیان نہیں کرتی، اس لیے انہیں دکھانے کا حق تصدیق شدہ نہیں۔ کسی نے اسے چھپی ہوئی کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ہر حصہ ان آیات کے ساتھ ہے جن پر وہ تبصرہ کرتا ہے، اور وہ آیات Tanzil کا قرآنی متن ہیں، جیسا وہاں ہے۔ جہاں متن میں کسی مدیر کا حاشیہ دوہرے قوسین میں ہے وہاں اسے جیسا ہے ویسا دکھایا گیا ہے۔ ابھی کوئی ترجمہ نہیں۔

متن ماخوذ ازQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMIT2026-10-21 کو لیا گیا

آیت 86

وَلَئِن شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهِۦ عَلَيْنَا وَكِيلًا 86

القول في تأويل قوله تعالى: ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَيْنَا وَكِيلا (٨٦) ﴾

يقول تعالى ذكره: ولئن شئنا لنذهبنّ بالذي آتيناك من العلم الذي أوحينا إليك من هذا القرآن لنذهبنّ به، فلا تعلمه، ثم لا تجد لنفسك بما نفعل بك من ذلك وكيلا يعني: قيِّما يقوم لك، فيمنعنا من فعل ذلك بك، ولا ناصرا ينصرك، فيحول بيننا وبين ما نريد بك، قال: وكان عبد الله بن مسعود يتأوّل معنى ذهاب الله عزّ وجلّ به رفعه من صدور قارئيه.

ذكر الرواية بذلك حدثنا أبو كريب، قال: ثنا أبو بكر بن عياش، عن عبد العزيز بن رفيع، عن بُنْدار، عن معقل، قال: قلت لعبد الله، وذكر أنه يُسرى على القرآن، كيف وقد أثبتناه في صدورنا ومصاحفنا؟ قال: يُسرى عليه ليلا فلا يبقى منه في مصحف ولا في صدر رجل، ثم قرأ عبد الله ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ .

⁕ حدثني يونس، قال: أخبرنا ابن وهب، قال: ثنا ابن إسحاق بن يحيى، عن المسيب بن رافع، عن عبد الله بن مسعود، قال: "تطرق الناسَ ريح حمراء من نحو الشام، فلا يبقى في مصحف رجل ولا قلبه آية. قال رجل: يا أبا عبد الرحمن، إني قد جمعت القرآن، قال: لا يبقى في صدرك منه شيء. ثم قرأ ابن مسعود ﴿وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ﴾ ."