سیدھے مواد پر جائیں
کتاب 25 · احیاء علوم الدین
کتاب 25

آغاز

متن ماخوذ ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 94722026-10-21 کو لیا گیا

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذي له يتكل على عفوه ورحمته إلا الراجون ولا يحذر سوء غضبه وسطوته إلا الخائفون الذي استدرج عباده من حديث لا يعلمون وسلط عليهم الشهوات وأمرهم بترك ما يشتهون وابتلاهم بالغضب وكلفهم كظم الغيظ فيما يغضبون ثم حفهم بالمكاره واللذات وأملى لهم لينظر كيف يعملون وامتحن بهم حبهم ليعلم صدقهم فيما يدعون وعرفهم أنه لا يخفى عليه شيء مما يسرون وما يعلنون وحذرهم أن يأخذهم بغتة وهم لا يشعرون فقال {ما ينظرون إلا صيحة واحدة تأخذهم وهم يخصمون فلا يستطيعون توصية ولا إلى أهلهم يرجعون} والصلاة والسلام على محمد رسوله الذي يسير تحت لوائه النبيون وعلى آله وأصحابه الأئمة المهديين والسادة المرضيين صلاة يوازي عددها عدد ما كان من خلق الله وما سيكون ويحظى ببركتها الأولون والآخرون وسلم تسليما كثيرا

أما بعد فإن الغضب شعلة نار اقتبست من نار الله الموقدة التي تطلع على الأفئدة وإنها لمستكنة في طي الفؤاد استكنان الجمر تحت الرماد ويستخرجه الكبر الدفين في قلب كل جبار عنيد كاستخراج الحجر النار من الحديد وقد انكشف للناظرين بنور اليقين أن الإنسان ينزع منه عرق إلى الشيطان اللعين فمن استفزته نار الغضب فقد قويت فيه قرابة الشيطان حيث قال {خلقتني من نار وخلقته من طين} فإن شأن الطين السكون والوقار وشأن النار التلظي والاستعار والحركة والاضطراب ومن نتائج الغضب الحقد والحسد وبهما هلك من هلك وفسد من فسد ومفيضهما مضغة إذا صلحت صلح معها سائر الجسد وإذا كان الحقد والحسد والغضب مما يسوق العبد إلى مواطن العطب فما أحوجه إلى معرفة معاطبه ومساويه ليحذر ذلك ويتقيه ويميطه عن القلب إن كان وينفيه ويعالجه إن رسخ في قلبه ويداويه فإن من لا يعرف الشر يقع فيه ومن عرفه فالمعرفة لا تكفيه ما لم يعرف الطريق الذي به يدفع الشر ويقصيه

ونحن نذكر ذم الغضب وآفات الحقد والحسد في هذا الكتاب ويجمعها

ترجمے

یہ ترجمہ مترجم کا ہے، سبیل کا نہیں۔ یہ ویسا ہی دکھایا گیا ہے جیسا اس کا ماخذ دیتا ہے: ہر کتاب کے نیچے مترجم کی اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر؛ یہ عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا اور جس نسخے سے پڑھا گیا اس کی غلطیاں اس میں باقی ہیں۔ سبیل نے اسے عربی سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔

یہ امام غزالی کی «احیاء علوم الدین» کا عربی متن ہے، جیسا OpenITI کے ذخیرے میں ہے، شاملہ کے نسخے سے، دارالمعرفہ کی طباعت کا۔ کسی نے اسے مطبوعہ کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ذخیرے کے مطابق بعض صفحات میں متن کا کچھ حصہ غائب ہے اور محقق کے حواشی متن میں گھل مل گئے ہیں؛ دونوں جیسے ہیں ویسے ہی دکھائے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخے کے ہر صفحے کے اختتام پر نشان لگایا گیا ہے۔ ترجمے اپنے مترجمین کے ہیں؛ ہر ایک اس نسخے سے لیا گیا جس کا نام اس کے ساتھ درج ہے اور ہر کتاب کے نیچے اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر دکھایا گیا ہے: کوئی بھی عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا، کریم کا انگریزی ترجمہ، بقول مترجم، اختصار کے ساتھ ہے، اور ہر ایک میں اس نسخے کی غلطیاں باقی ہیں جس سے اسے پڑھا گیا۔ سبیل نے کچھ ترجمہ نہیں کیا، کسی ترجمے کو عربی سے نہیں ملایا، اور کسی عالم نے کسی کا جائزہ نہیں لیا۔