الآفة السادسة
متن ماخوذ ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 94722026-10-21 کو لیا گیا
التقعر في الكلام بالتشدق وتكلف السجع والفصاحة والتصنع فيه بالتشبيبات والمقدمات وما جرى به عادة المتفاصحين المدعين للخطابة وكل ذلك من التصنع المذموم ومن التكلف الممقوت الذي قال فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وأتقياء أمتي برءاء من التكلف وقال صلى الله عليه وسلم إن أبغضكم إلي وأبعدكم مني مجلسا الثرثارون المتفيهقون المتشدقون في الكلام (4) وقالت فاطمة رضي الله عنها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم شرار أمتي الذين غذوا بالنعيم يأكلون ألوان الطعام ويلبسون ألوان الثياب ويتشدقون في الكلام (5)
وقال صلى الله عليه وسلم ألا هلك المتنطعون ثلاث مرات (6) حديث سعد يأتي على الناس زمان يتخللون الكلام بألسنتهم كما تتخلل البقرة الكلأ بلسانها رواه أحمد // وكأنه أنكر عليه ما قدمه على الكلام من التشبب والمقدمة المصنوعة المتكلفة وهذا أيضا من آفات اللسان ويدخل فيه كل سجع متكلف وكذلك التفاصح الخارج عن حد العادة وكذلك التكلف بالسجع في المحاورات إذ قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغرة في الجنين فقال بعض قوم الجاني كيف ندى من لا شرب ولا أكل ولا صاح ولا استهل3:120
ومثل ذلك بطل فقال أسجعا كسجع الأعراب (1) وأنكر ذلك لأن أثر التكلف والتصنع بين عليه بل ينبغي أن يقتصر في كل شيء على مقصوده ومقصود الكلام التفهيم للغرض وما وراء ذلك تصنع مذموم ولا يدخل في هذه تحسين ألفاظ الخطابة والتذكير من غير إفراط وإغراب فإن المقصود منها تحريك القلوب وتشويقها وقبضها وبسطها فلرشاقة اللفظ تأثير فيه فهو لائق به فأما المحاورات التي تجري لقضاء الحاجات فلا يليق بها السجع والتشدق والاشتغال به من التكلف المذموم ولا باعث عليه إلا الرياء وإظهار الفصاحة والتميز بالبراعة وكل ذلك مذموم يكرهه الشرع ويزجر عنه
ترجمے
یہ ترجمہ مترجم کا ہے، سبیل کا نہیں۔ یہ ویسا ہی دکھایا گیا ہے جیسا اس کا ماخذ دیتا ہے: ہر کتاب کے نیچے مترجم کی اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر؛ یہ عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا اور جس نسخے سے پڑھا گیا اس کی غلطیاں اس میں باقی ہیں۔ سبیل نے اسے عربی سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔
یہ امام غزالی کی «احیاء علوم الدین» کا عربی متن ہے، جیسا OpenITI کے ذخیرے میں ہے، شاملہ کے نسخے سے، دارالمعرفہ کی طباعت کا۔ کسی نے اسے مطبوعہ کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ذخیرے کے مطابق بعض صفحات میں متن کا کچھ حصہ غائب ہے اور محقق کے حواشی متن میں گھل مل گئے ہیں؛ دونوں جیسے ہیں ویسے ہی دکھائے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخے کے ہر صفحے کے اختتام پر نشان لگایا گیا ہے۔ ترجمے اپنے مترجمین کے ہیں؛ ہر ایک اس نسخے سے لیا گیا جس کا نام اس کے ساتھ درج ہے اور ہر کتاب کے نیچے اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر دکھایا گیا ہے: کوئی بھی عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا، کریم کا انگریزی ترجمہ، بقول مترجم، اختصار کے ساتھ ہے، اور ہر ایک میں اس نسخے کی غلطیاں باقی ہیں جس سے اسے پڑھا گیا۔ سبیل نے کچھ ترجمہ نہیں کیا، کسی ترجمے کو عربی سے نہیں ملایا، اور کسی عالم نے کسی کا جائزہ نہیں لیا۔