سیدھے مواد پر جائیں
کتاب 20 · احیاء علوم الدین
کتاب 20

آغاز

متن ماخوذ ازOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 94722026-10-21 کو لیا گیا

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله الذي خلق كل شيء فأحسن خلقه وترتيبه وأدب نبيه محمدا صلى الله عليه وسلم فأحسن تأديبه وزكى أوصافه وأخلاقه ثم اتخذه صفيه وحبيبه ووفق للاقتداء به من أراد تهذيبه وحرم عن التخلق بأخلاقه من أراد تخييبه وصلى الله على سيدنا محمد سيد المرسلين وعلى آله الطيبين الطاهرين وسلم كثيرا

أما بعد فإن آداب الظواهر عنوان آداب البواطن وحركات الجوارح ثمرات الخواطر والأعمال نتيجة الأخلاق والآداب رشح المعارف وسرائر القلوب هي مغارس الأفعال ومنابعها وأنوار السرائر هي التي تشرق على الظواهر فتزينها وتجليها وتبدل بالمحاسن مكارهها ومساويها

ومن لم يخشع قلبه لم تخشع جوارحه

ومن لم يكن صدره مشكاة الأنوار الإلهية لم يفض على ظاهره جمال الآداب النبوية ولقد كنت عزمت على أن أختم ربع العادات من هذا الكتاب بكتاب جامع لآداب المعيشة لئلا يشق على طالبها استخراجها من جميع هذه الكتب ثم رأيت كل كتاب من ربع العادات قد أتى على جملة من الآداب فاستثقلت تكريرها وإعادتها فإن طلب الإعادة ثقيل والنفوس مجبولة على معاداة المعادات فرأيت أن أقتصر في هذا الكتاب على ذكر آداب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخلاقه المأثورة عنه بالإسناد فأسردها مجموعة فصلا فصلا محذوفة الأسانيد ليجتمع فيه مع جميع الآداب تجديد الإيمان وتأكيده بمشاهدة أخلاقه الكريمة التي شهد آحادها على القطع بأنه أكرم خلق الله تعالى وأعلاهم رتبة وأجلهم قدرا فكيف مجموعها ثم أضيف إلى ذكر أخلاقه ذكر خلقته ثم ذكر معجزاته التي صحت بها الأخبار ليكون ذلك معربا عن مكارم الأخلاق والشيم ومنتزعا عن آذان الجاحدين لنبوته صمام الصمم

والله تعالى ولي التوفيق للاقتداء بسيد المرسلين في الأخلاق والأحوال وسائر معالم الدين فإنه دليل المتحيرين ومجيب دعوة المضطرين

ولنذكر فيه أولا بيان تأديب الله تعالى إياه بالقرآن ثم بيان جوامع من محاسن أخلاقه ثم بيان جملة من آدابه وأخلاقه ثم بيان كلامه وضحكه ثم بيان أخلاقه وآدابه في الطعام ثم بيان أخلاقه وآدابه في اللباس ثم بيان عفوه مع القدرة ثم بيان إغضائه عما كان يكره ثم بيان سخاوته وجوده ثم بيان شجاعته وبأسه ثم بيان تواضعه ثم بيان صورته وخلقته ثم بيان جوامع معجزاته وآياته صلى الله عليه وسلم2:357

ترجمے

یہ ترجمہ مترجم کا ہے، سبیل کا نہیں۔ یہ ویسا ہی دکھایا گیا ہے جیسا اس کا ماخذ دیتا ہے: ہر کتاب کے نیچے مترجم کی اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر؛ یہ عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا اور جس نسخے سے پڑھا گیا اس کی غلطیاں اس میں باقی ہیں۔ سبیل نے اسے عربی سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔

یہ امام غزالی کی «احیاء علوم الدین» کا عربی متن ہے، جیسا OpenITI کے ذخیرے میں ہے، شاملہ کے نسخے سے، دارالمعرفہ کی طباعت کا۔ کسی نے اسے مطبوعہ کتاب یا مخطوطے سے نہیں ملایا اور کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ ذخیرے کے مطابق بعض صفحات میں متن کا کچھ حصہ غائب ہے اور محقق کے حواشی متن میں گھل مل گئے ہیں؛ دونوں جیسے ہیں ویسے ہی دکھائے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخے کے ہر صفحے کے اختتام پر نشان لگایا گیا ہے۔ ترجمے اپنے مترجمین کے ہیں؛ ہر ایک اس نسخے سے لیا گیا جس کا نام اس کے ساتھ درج ہے اور ہر کتاب کے نیچے اپنی سرخیوں کے ساتھ الگ متن کے طور پر دکھایا گیا ہے: کوئی بھی عربی کے ساتھ سطر بہ سطر نہیں رکھا گیا، کریم کا انگریزی ترجمہ، بقول مترجم، اختصار کے ساتھ ہے، اور ہر ایک میں اس نسخے کی غلطیاں باقی ہیں جس سے اسے پڑھا گیا۔ سبیل نے کچھ ترجمہ نہیں کیا، کسی ترجمے کو عربی سے نہیں ملایا، اور کسی عالم نے کسی کا جائزہ نہیں لیا۔