The journey of the soul in the Qur’ān and the ḥadīth
From the covenant to eternity: the stages of the soul’s journey as the Qur’ān and the ḥadīth give them, with each source listed.
اے آئی کا لکھا ہوا · علمی جائزہ ابھی باقی ہے
اس مضمون کے الفاظ اے آئی نے سبیل لائبریری اور اس کے مآخذ سے لکھے ہیں، اور اے آئی ہی نے انہیں ان سے ملا کر جانچا ہے۔ ابھی کسی عالم نے اس کا جائزہ نہیں لیا۔ عربی متون، ان کے معانی اور ان کے مآخذ لائبریری اور قرآن کے اپنے ہیں، اور بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہاں ہیں۔ اپنے حالات کے بارے میں فتوے کے لیے کسی مستند عالم سے پوچھیں۔
یہ مضمون ابھی اس زبان میں نہیں لکھا گیا۔ یہ انگریزی میں دکھایا گیا ہے۔
21 اکتوبر، 2026 کو شائع ہوا44 منٹ کا مطالعہ
This page is for a reader who wants the whole journey in one place: where a person comes from, what happens at death and in the grave, the Day of Resurrection, and the final abodes. It follows the order in which the Qur’ān and the ḥadīth describe the stages. Every verse is shown below with Tanzil’s Arabic and its meaning in the edition the app uses, and every narration is named by its collection and number in the list at the end, so that you can open it yourself. Under some verses the page also shows the notes of that edition; they are the edition’s words, not this page’s, and this page has not checked them. This page is written and checked by AI and no scholar has reviewed it. It gives no ruling and no verdict on any person; for your own circumstances, ask a scholar. A way to send a correction is to follow.
Before this life
The sources speak of what Allah ordained before creation. A narration in Ṣaḥīḥ Muslim says that Allah ordained the measures of the creation fifty thousand years before He created the heavens and the earth (Ṣaḥīḥ Muslim 2653b). The verses on being tested, below, say that life and death were created to test which of you is best in deeds.
The Qur’ān also speaks of a covenant, in which the descendants of Adam were made to testify about themselves.
اور جب آپ کے رب نے اوﻻد آدم کی پشت سے ان کی اوﻻد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواه بنتے ہیں[1] ۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔
[1] یہ عَهْدِ أَلَسْتُ کہلاتا ہے جو أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ سے بنی ہوئی ترکیب ہے ۔ یہ عہد حضرت آدم (عليه السلام) کی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا۔ اس کی تفصیل ایک صحیح حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ ”عرفہ والے دن نعمان جگہ میں اللہ تعالیٰ نے اصلاب آدم سے عہد (میثاق) لیا۔ پس آدم کی پشت سے ان کی ہونے والی تمام اولاد کو نکالا اور اس کو اپنے سامنے پھیلا دیا اور ان سے پوچھا، (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟) سب نے کہا ” بَلَى، شَهِدْنَا“ (کیوں نہیں۔ ہم سب رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں) (مسند أحمد ۔ جلد 1ص 272، والحاكم ۔ جلد ،2 ص 544، وصححه ووافقه الذهبي) امام شوکانی اس حدیث کی بابت لکھتے ہیں ”وَإِسْنَادُهُ لا مَطْعَنَ فِيهِ“ (فتح القدیر) (اس کی سند میں کوئی طعن نہیں) نیز امام شوکانی فرماتے ہیں ”یہ عالم ذر کہلاتا ہے اس کی یہی تفسیر صحیح اور حق ہے جس سے عدول اور کسی اور مفہوم کی طرف جانا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مرفوع حدیث اور آثار صحابہ سے ثابت ہے اور اسے مجاز پر بھی محمول کرنا جائز نہیں ہے“۔ بہرحال اللہ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی مفہوم کو رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ”ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ جس طرح جانور کابچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا“۔ (صحيح بخاري- كتاب الجنائز ومسلم، كتاب القدر) اور صحیح مسلم کی روایت ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”میں نے اپنے بندوں کو حنیف (اللہ کی طرف یکسوئی سے متوجہ ہونے والا) پیدا کیا ہے۔ پس شیطان ان کو ان کے دین (فطری) سے گمراہ کر دیتا ہے“۔ الحدیث (صحيح مسلم- كتاب الجنة) یہ فطرت یا دین فطرت، یہی رب کی توحید اور اس کی نازل کردہ شریعت ہے جو اب اسلام کی صورت میں محفوظ اور موجود ہے۔
The edition’s note on this verse calls it the pledge of innate nature. This page adds nothing to the verse and the note about how the testimony was given. The verse gives its own reason: so that people should not say on the Day of Resurrection that they were unaware of this.
On the spirit (rūḥ), the Qur’ān says that people ask about it, and gives the answer.
اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دے دیجئیے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے.[1]
[1] روح وہ لطیف شے ہے جو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ یہودیوں نے بھی ایک مرتبہ نبی (صلى الله عليه وسلم) سے اس کی بابت پوچھا تو یہ آیت اتری ( صحيح بخاري، تفسير سورة بني إسرائيل ومسلم، كتاب صفة القيامة والجنة- والنار، باب سؤال اليهود النبي صلى الله عليه وسلم عن الروح ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا علم، اللہ کے علم کے مقابلے میں قلیل ہے، اور یہ روح، جس کے بارے میں تم سے پوچھ رہے ہو، اس کا علم تو اللہ نے انبیاء سمیت کسی کو بھی نہیں دیا ہے اتنا سمجھو کہ یہ میرے رب کا امر (حکم) ہے۔ یا میرے رب کی شان میں سے ہے، جس کی حقیقت کو صرف وہی جانتا ہے۔
The verse’s answer is that the spirit is of the affair of the Lord, and that people have been given only a little knowledge. This page says nothing more of what the spirit is.
The womb
The Qur’ān describes stages in the creation of the human being.
یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا.[1]
[1] مٹی سے پیدا کرنے کا مطلب، ابو البشر حضرت آدم (عليه السلام) کی مٹی سے پیدائش ہے یا انسان جو خوراک بھی کھاتا ہے وہ سب مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اس اعتبار سے اس نطفے کی اصل، جو خلقت انسانی کا باعث بنتا ہے، مٹی ہی ہے۔
پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا.[1]
[1] محفوظ جگہ سے مراد رحم مادر ہے، جہاں نو مہینے بچہ بڑی حفاظت سے رہتا اور پرورش پاتا ہے۔
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کردیا۔ پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا[1] ، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کردیا[2]۔ برکتوں واﻻ ہے وه اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے واﻻ ہے.[3]
[1] اس کی کچھ تفصیل سورہ حج میں گزر چکی ہے۔ یہاں پھر اسے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم وہاں مُخلَّقَۃ کا جو ذکر تھا، یہاں اس کی وضاحت، مُضْغَۃ کو ہڈیوں میں تبدیل کرنے اور ہڈیوں کو گوشت پہنانے، سے کر دی ہے۔ مُضْغَۃ گوشت کو ہڈیوں سے تبدیل کرنے کا مقصد، انسانی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے کیونکہ محض گوشت میں تو کوئی سختی نہیں ہوتی، پھر اگر اسے ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی رکھا جاتا، تو انسان میں وہ حس و رعنائی نہ آتی، جو ہر انسان کے اندر موجود ہے۔ اس لئے ہڈیوں پر ایک خاص تناسب اور مقدار سے گوشت چڑھا دیا گیا کہیں کم اور کہیں زیادہ۔ تاکہ قدو قامت میں غیر موزونیت اور بھدا پن پیدا نہ ہو۔ بلکہ حسن و جمال کا ایک پیکر اور قدرت کی تخلیق کا ایک شاہ کار ہو۔ اسی چیز کو قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا «لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ» (التین:4) ”ہم نے انسان کو احسن تقویم یعنی بہت اچھی ترکیب یا بہت اچھے ڈھانچے میں بنایا“۔
[2] اس سے مراد وہ بچہ ہے جو نو مہینے کے بعد ایک خاص شکل و صورت لے کر ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے اور حرکت و اضطراب کے ساتھ دیکھنے اور سننے اور ذہنی قوتیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔
[3] خَالِقِیْنَ یہاں ان صالحین کے معنی میں ہے۔ جو خاص خاص مقداروں میں اشیا کو جوڑ کر کوئی ایک چیز تیار کرتے ہیں۔ یعنی ان تمام صنعت گروں میں، اللہ جیسا بھی کوئی صنعت گر ہے جو اس طرح کی صنعت کاری کا نمونہ پیش کر سکے جو اللہ تعالٰی نے انسانی پیکر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ پس سب سے زیادہ خیر و برکت والا وہ اللہ ہی ہے، جو تمام صنعت کاروں سے بڑا اور سب سے اچھا صنعت کار ہے۔
A narration of Ibn Masʿūd, reported by al-Bukhārī and Muslim, says that the creation of each of you is gathered in the mother’s womb for forty days, then becomes a clot for a like period, then a lump of flesh for a like period; then an angel is sent and is ordered to write four things: the person’s provision, lifespan, deeds, and whether they will be wretched or blessed. In al-Bukhārī’s narration the spirit is breathed into the person after this (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3208; Ṣaḥīḥ Muslim 2643a). The same narration warns that a person may do the deeds of the people of one abode until there is only a cubit between them and it, and then what was written overtakes them.
Birth, and the *fiṭrah*
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منھ دین کی طرف متوجہ کر دیں[1] ۔ اللہ تعالیٰ کی وه فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے[2]، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں،[3] یہی سیدھا دین ہے[4] لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے.[5]
[1] یعنی اللہ کی توحید اور اس کی عبادت پر قائم رہیں اور ادیان باطلہ کی طرف التفات ہی نہ کریں۔
[2] فطرت کےاصل معنی خلقت (پیدائش) کے ہیں۔ یہاں مراد ملت اسلام (وتوحید) ہے مطلب یہ ہے کہ سب کی پیدائش، بغیر مسلم وکافر کی تفریق کے، اسلام اور توحید پر ہوتی ہے، اس لئے توحید ان کی فطرت یعنی جبلت میں شامل ہے جس طرح کہ عہدالست سےواضح ہے۔ بعد میں بہت سوں کو ماحول یادیگر عوارض، فطرت کی اس آواز کی طرف نہیں آنے دیتے، جس کی وجہ سےوہ کفر پر ہی باقی رہتے ہیں جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی حدیث ہے ”ہربچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کے ماں باپ، اس کو یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں“۔ (صحيح بخاري، تفسير سورة الروم، مسلم كتاب القدر ، باب معنى كل مولود يولد على الفطرة)۔
[3] یعنی اللہ کی اس خلقت (فطرت) کو تبدیل نہ کرو بلکہ صحیح تربیت کےذریعےسےاس کی نشوونما کرو تاکہ ایمان وتوحید بچوں کے دل ودماغ میں راسخ ہوجائے۔ یہ خبربمعنی انشا ہے یعنی نفی، نہی کے معنی میں ہے۔
[4] یعنی وہ دین جس کی طرف یکسو اور متوجہ ہونے کا حکم ہے، یا جو فطرت کا تقاضا ہے وہ یہی دین قیم ہے۔
[5] اسی لئے وہ اسلام اور توحید سے ناآشنا رہتے ہیں۔
The edition’s note explains the word fiṭrah as the natural inclination to worship one’s Lord. A narration in Ṣaḥīḥ al-Bukhārī says that every child is born on the fiṭrah, and that his parents then turn him from it (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1358).
The Qur’ān says that no one bears another’s burden, and that Allah does not punish until He has sent a messenger.
جو راه راست حاصل کرلے وه خود اپنے ہی بھلے کے لئے راه یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ واﻻ کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ ﻻدے گا[1] اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں.[2]
[1] البتہ جو ضال (گمراہ) مُضل (گمراہ کرنے والے) بھی ہوں گے، انہیں اپنی گمراہی کے بوجھ کے ساتھ، ان کے گناہوں کا بار بھی (بغیر ان کے گناہوں میں کمی کیے) اٹھانا پڑے گا جو ان کی کوششوں سے گمراہ ہوئے ہوں گے، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات اور احادیث میں واضح ہے۔ یہ دراصل ان کے اپنے ہی گناہوں کا بھار ہوگا جو دوسروں کو گمراہ کر کے انہوں نے کمایا ہوگا۔
[2] بعض مفسرین نے اس سے صرف دنیوی عذاب مراد لیا ہے۔ یعنی آخرت کے عذاب سے مستثنٰی نہیں ہوں گے، لیکن قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ اللہ تعالٰی لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہارے پاس میرے رسول نہیں آئے تھے؟ جس پر اثبات میں جواب دیں گے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ارسال رسل اور انزال کتب کے بغیر وہ کسی کو عذاب نہیں دے گا۔ تاہم اس کا فیصلہ کہ کس قوم یا فرد تک اس کا پیغام نہیں پہنچا، قیامت والے دن وہ خود ہی فرمائے گا، وہاں یقینا کسی کے ساتھ ظلم نہیں ہو گا۔ اسی طرح بہرا پاگل فاترالعقل اور زمانہ فترت یعنی دو نبیوں کے درمیانی زمانے میں فوت ہونے والے لوگوں کا مسئلہ ہے ان کی بابت بعض روایات میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالٰی ان کی طرف فرشتے بھیجے گا اور وہ انہیں کہیں گے کہ جہنم میں داخل ہو جاؤ اگر وہ اللہ کے اس حکم کو مان کر جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو جہنم ان کے لیے گل وگلزار بن جائے گی بصورت دیگر انہیں گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسند أحمد، ج 4، ص 24، وابن حبان، ج 9، ص 226۔ علامہ البانی نے صحيح الجامع الصغير (نمبر 881) میں اسے ذکر کیا ہے) چھوٹے بچوں کی بابت اختلاف ہے مسلمانوں کے بچے تو جنت میں ہی جائیں گے البتہ کفار و مشرکین کے بچوں میں اختلاف ہے کوئی توقف کا کوئی جنت میں جانے کا اور کوئی جہنم میں جانے کا قائل ہے، امام ابن کثیر نے کہا ہے کہ میدان محشر میں ان کا امتحان لیا جائے گا جو اللہ کے حکم کی اطاعت اختیار کرے گا وہ جنت میں اور جو نافرمانی کرے گا جہنم میں جائے گا امام ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ اس سے متضاد روایات میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے۔ تفصیل کے لیے (تفسیر ابن کثیر ملاحظہ کیجئے)۔ مگر صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کے بچے بھی جنت میں جائیں گے۔ دیکھئے صحیح بخاری (3: 251، 12: 348) مع الفتح
This page does not say how the verse applies to a particular child who died young, or to a particular person the message never reached; for that, ask a scholar. The Qur’ān says that no soul will be wronged on the Day (21:47, below).
This life: a test, and a record
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے[1] ، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے.
[1] روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق واتصال ہو جائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہو جائے وہ موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے؟جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔
میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں.[1]
[1] اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادۂ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب ومطلوب ہے کہ تمام انس وجن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادۂ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت واطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت بازپرس ہوگی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ واختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔
The Qur’ān says that every person has angels watching and recording, and that not a word is uttered without a watcher present.
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا.
(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے.[1]
[1] رَقِيبٌ، محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا۔ عَتِيدٌ حاضر اور تیار۔
یقیناً تم پر نگہبان عزت والے.
لکھنے والے مقرر ہیں.
جوکچھ تم کرتے ہو وه جانتے ہیں.[1]
[1] یعنی تم جو جزا وسزا کے منکر ہو، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا ہر قول اور ہر فعل نوٹ ہو رہا ہے۔ اللہ کی طرف سے فرشتے تم پر بطور نگران مقرر ہیں جو تمہاری ہر اس بات کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ یہ گویا انسانون کو تنبیہ ہے کہ ہر عمل اور بات سے پہلےسوچ لو کہ وہ غلط تو نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو پہلے گزر چکی ہے مثلاً عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (1) مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ( سورة ق ، 17۔ 18) یعنی (ایک فرشتہ اس کے دائیں اور دوسرا اس کے بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے، انسان جو بولتا ہے، اس کے پاس نگران، تیار اور حاضر ہے) یعنی لکھنے کے لئے۔ کہتے ہیں ایک فرشتہ نیکی اور دوسرا بدی لکھتا ہے۔ اور احادیث وآثار سے معلوم ہوتا ہے کہ دن کے دو فرشتے الگ اور رات کے دو فرشتے الگ ہیں۔ آگے نیکوں اور بدوں، دونوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
On repentance, 39:53 says not to despair of Allah’s mercy, for Allah forgives all sins, and 4:18 says that repentance is not for those who commit evil deeds until death approaches one of them and he then says “Now I repent”, nor for those who die as disbelievers.
(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے.[1]
[1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو“ کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا تو استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کیے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت زیادہ گناہ گار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا؟ بلکہ سچےدل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ النصوح کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے۔ کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زناکاری کا ارتکاب کیا تھا، یہ نبی ﹲ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ ﹲ کی دعوت، صحیح ہے لیکن ہم لوگ بہت زیادہ خطاکار ہیں، اگر ہم ایمان لے آئے تو کیا وہ سب معاف ہو جائیں گے، جس پر اس آیت کا نزول ہوا۔ (صحیح بخاری،تفسیر سورۂ زمر) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ کی رحمت و مغفرت کی امید پر خوب گناہ کیے جاؤ، اس کے احکام و فرائض کی مطلق پرواہ نہ کرو اور اس کے حدود اور ضابطوں کو بے دردی سے پامال کرو۔ اس طرح اس کے غضب و انتقام کو دعوت دے کر اس کی رحمت و مغفرت کی امید رکھنا نہایت نادانش مندی اور خام خیالی ہے۔ یہ تخم حنظل بو کر ثمرات و فواکہ کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جہاں اپنے بندوں کے لیے غَفُورٌ رَحِيمٌ ہے، وہاں وہ نافرمانوں کے لیے عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ بھی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں متعدد جگہ ان دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ بیان کیا گیا، مثلاً نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ (الحجر:50،49) غالباً یہی وجہ ہے کہ یہاں آیت کا آغاز يَا عِبَادِي (میرے بندوں) سےفرمایا، جس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ جو ایمان لاکر یا سچی توبہ کرکے صحیح معنوں میں اس کا بندہ بن جائے گا، اس کے گناہ اگر سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں گے تو وہ معاف فرما دے گا، وہ اپنے بندوں کے لیے یقیناً غفور رحیم ہے۔ جیسے حدیث میں سو آدمیوں کے قاتل کے توبہ کا واقعہ ہے، (صحيح بخاري، كتاب الأنبياء - مسلم ، كتاب التوبة ، باب قبول توبة القاتل وإن كثر قتله)۔
ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی[1] ، اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں، یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
[1] اس سے واضح ہے کہ موت کے وقت کی گئی توبہ غیر مقبول ہے، جس طرح کہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ ضروری تفصیل آل عمران کی آیت90میں گزر چکی ہے۔ٍ
A narration in Jāmiʿ al-Tirmidhī says that Allah accepts the servant’s repentance until the soul reaches the throat; al-Tirmidhī calls it ḥasan gharīb (Jāmiʿ al-Tirmidhī 3537). The edition’s note on 39:53 says that the only unforgivable sin is dying in disbelief in Allah or associating others with Him, and refers to 4:48, which says that Allah does not forgive associating partners with Him and forgives anything less than that for whom He wills.
یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے[1] اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا۔[2]
[1] یعنی ایسے گناہ جن سے مومن توبہ کئے بغیر ہی مر جائیں، اللہ تعالیٰ اگر کسی کے لئے چاہے گا، تو بغیر کسی قسم کی سزا دیئے معاف فرما دے گا اور بہت سوں کو سزا کے بعد اور بہت سوں کو نبی (صلى الله عليه وسلم) کی شفاعت پر معاف فرما دے گا۔ لیکن شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوگا کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے۔
[2] دوسرے مقام پر فرمایا إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورۃ لقمان) شرک ظلم عظیم ہے حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ”أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللهِ“۔
On deeds and mercy, a verse reports what the angels say to those whose souls they take in a state of purity.
وه جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وه پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے[1] ، جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے.[2]
[1] ان آیات میں ظالم مشرکوں کے مقابلے میں اہل ایمان و تقویٰ کا کردار اور ان کا حسن انجام بیان فرمایا ہے۔ جَعَلَنَا اللهُ ِمْنهُمْ آمِينَ يَا رَبَّ العَالَمِينَ
[2] سورہ اعراف کی آیت 43 کے تحت یہ حدیث گزر چکی ہے کہ کوئی شخص بھی محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، جب تک اللہ کی رحمت نہیں ہوگی۔ لیکن یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنے عملوں کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ، تو ان میں دراصل کوئی منافات نہیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمت کے حصول کے لئے اعمال صالحہ ضروری ہیں، اس کے بغیر آخرت میں اللہ کی رحمت مل ہی نہیں سکتی۔ اس لئے حدیث مذکورہ کا مفہوم بھی اپنی جگہ صحیح ہے اور عمل کی اہمیت بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس لیے ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے: «إِنَّ اللهَ لا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ» (صحيح مسلم، كتاب البر، باب تحريم ظلم المسلم)۔
A narration says that none enters Paradise by his deeds alone, and when the Prophet ﷺ was asked whether this included him, he said that it did, unless Allah covered him with His mercy (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 5673; Ṣaḥīḥ Muslim 2816a). Both are in the sources, and this page does not reconcile them.
Death
کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے[1] . پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے.
[1] یعنی اس کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ جب تمہاری موت کا وقت آجائے تو وہ آکر روح قبض کر لے۔
اور وہی اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور تم پر نگہداشت رکھنے والے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کرلیتے ہیں اور وه ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔[1]
[1] یعنی اپنے اس مفوضہ کام میں اور روح کی حفاظت میں بلکہ وہ فرشتہ، مرنے والا اگر نیک ہوتا ہے تو اس کی روح عِلِّيِّينَ میں اور اگر بد ہوتا ہے توسِجِّينٌ میں، بھیج دیتا ہے۔
The verses on the moment of death say that Allah does not delay a soul when its appointed time comes, and that the one who regrets asks to be sent back and is told “No”.
اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے.
یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے
کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں[1] ، ہرگز ایسا نہیں ہوگا[2]، یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل[3] ہے، ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوباره جی اٹھنے کے دن تک.[4]
[1] یہ آرزو، ہر کافر موت کے وقت، دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت، بارگاہ الٰہی میں قیامت کے وقت اور جہنم میں دھکیل دیئے جانے کے وقت کرتا ہے اور کرے گا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم میں اس مضمون کو متعدد، جگہ بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ منافقون:10-11، ابراھیم:44، اعراف: 53، السجدة: 12۔ الانعام: 27-28۔ الشوریٰ: 24۔ المؤمن: 11- 12۔ فاطر: 37 وغیرها من الآیات۔
[2] کَلَّا، ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہے یعنی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے۔
[3] اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ایسی بات ہے کہ جو ہر کافر نزع (جان کنی) کے وقت کہتا ہے۔ دوسرے معنی ہیں کہ یہ صرف بات ہی بات ہے عمل نہیں، اگر انہیں دوبارہ بھی دنیا میں بھیج دیا جائے تو ان کا یہ قول، قول ہی رہے گا عمل اصلاح کی توفیق انہیں پھر نصیب نہیں ہوگی،جیسے دوسرے مقام پر فرمایا: «وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ» (الأنعام ،28) ”اگر انہیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تو یہ پھر وہی کام کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا“۔ کافر دنیا میں اپنے خاندان اور قبیلے کے پاس جانے کی آرزو نہیں کرے گا، بلکہ عمل صالح کے لئے دنیا میں آنے کی آرزو کرے گا۔ اس لئے زندگی کے لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمل صلاح کر لئے جائیں تاکہ کل قیامت کو یہ آرزو کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے (ابن کثیر)
[4] دو چیزوں کے درمیان حجاب اور آڑ کو برزخ کہا جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے درمیان جو وقفہ ہے، اسے یہاں برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ مرنے کے بعد انسان کا تعلق دنیا کی زندگی سے ختم ہو جاتا ہے اور آخرت کی زندگی کا آغاز اس وقت ہوگا جب تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ درمیان کی زندگی ہے۔ انسان کا وجود جہاں بھی اور جس شکل میں بھی ہوگا، بظاہر وہ مٹی میں مل کر مٹی بن چکا ہوگا، یا راکھ بنا کر ہواؤں میں اڑا دیا یا دریاؤں میں بہا دیا ہوگا یا کسی جانور کی خوراک بن گیا ہوگا، مگر اللہ تعالٰی سب کو ایک نیا وجود عطا فرما کر میدان محشر میں جمع فرمائے گا۔
The edition’s note on 23:100 says that once they die there is no chance of returning to the world, and that they remain in that state until the Day of Resurrection. The word the edition translates as “barrier” is barzakh, which is where the next section begins.
The *barzakh* and the grave
Verse 23:100, above, speaks of a barrier until the Day they are raised. The Qur’ān also says that Allah keeps the believers steadfast in this world and in the Hereafter.
ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی[1] ، ہاں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے.
[1] اس کی تفسیر حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ ”موت کے بعد قبر میں جب مسلمان سے سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب میں اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلى الله عليه وسلم) اللہ کے رسول ہیں“۔ پس یہی مطلب ہے اللہ کے فرمان، «يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا» کا (صحيح بخاري، تفسير سورة إبراهيم، وصحيح مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها ، باب عرض مقعد الميت عليه وإثبات عذاب القبر) ایک اور حدیث میں ہے کہ ”جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں اور وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر اس سے پوچھتے ہیں کہ اس شخص کے بارے میں تیری کیا رائے ہے، وہ مومن ہوتا ہے تو جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ فرشتے اسے جہنم کا ٹھکانا دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کی جگہ تیرے لئے جنت میں ٹھکانا بنا دیا ہے۔ پس وہ دونوں ٹھکانے دیکھتا ہے اور اس کی قبر ستر ہاتھ کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس کی قبر کو قیامت تک نعمتوں سے بھر دیا جاتا ہے“۔ (صحیح مسلم، باب مذکور) ایک اثر میں ہے، اس سے پوچھا جاتا ہے «مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟»۔ ”تیرا رب کون ہے، تیرا دین کیا ہے اور تیرا پیغمبر کون ہے“؟ پس اللہ تعالٰی اسے ثابت قدمی عطا فرماتا ہے اور وہ جواب دیتا ہے رَبِّی اللّٰہُ (میرا رب اللہ ہے)، وَ دِیْنِیَ الاِ سْلَامُ (میرا دین اسلام ہے) وَ نَبِیِّی مُحَمَّد (اور میرے پیغمبر محمد صلى الله عليه وسلم ہیں) (تفسیر ابن کثیر)
A narration in Ṣaḥīḥ al-Bukhārī says that the believer made to sit in his grave testifies, and that this is what the verse speaks of; a further line in it says that the verse was revealed concerning the punishment of the grave (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1369). Another says that the deceased is asked about the Prophet ﷺ, and that the believer testifies that he is Allah’s servant and messenger, while the hypocrite or the non-believer says that he does not know (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1374).
The Sabīl library gives a supplication for refuge from four things, among them the punishment of Hell and of the grave, and says the Prophet ﷺ commanded it when one finishes the last tashahhud; the library cites this to Muslim.
مسودہ ترجمہ: مشین کے ذریعے عربی اور انگریزی سے تیار کیا گیا ہے، اور ابھی کسی عالم یا اہلِ زبان مدیر نے اسے نہیں پڑھا۔ جہاں کوئی سطر واضح نہ ہو، وہاں انگریزی دکھائیں اور عربی پر بھروسا کریں۔
جن سطروں کا تعلق کسی شرعی حکم سے ہے، ان کے نیچے مطبوعہ انگریزی ہمیشہ دکھائی جاتی ہے۔ جس سطر کا مسودہ جانچ میں پورا نہیں اترا، وہ صرف انگریزی میں دکھائی جاتی ہے۔
For those killed in Allah’s way the Qur’ān says this.
جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کئے گئے ہیں ان کو ہرگز مرده نہ سمجھیں، بلکہ وه زنده ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں.[1]
[1] شہدا کی یہ زندگی حقیقی ہے یا مجازی، یقیناً حقیقی ہے لیکن اس کا شعور اہل دنیا کو نہیں جیسا کہ قرآن نے وضاحت کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو (سورۂ بقرۃ آیت نمبر 154) پھر اس زندگی کا مطلب کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں قبروں میں ان کی روحیں لوٹا دی جاتی ہیں اور وہاں اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جنت کے پھلوں کی خوشبوئیں انہیں آتی ہیں۔ جس سے ان کے مشام جان معطر رہتے ہیں۔ لیکن حدیث سے ایک تیسری شکل معلوم ہوتی ہے اس لئے وہی صحیح ہے، وہ یہ کہ اس کی روحیں سبز پرندوں کے جوف یا سینوں میں داخل کر دی جاتی ہیں اور وہ جنت میں کھاتی پھرتی اور اس کی نعمتوں سے متمتع ہوتی ہیں (فتح القدیر بحوالہ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)
A narration in Ṣaḥīḥ Muslim says that when a person dies their deeds come to an end except for three: ongoing charity, knowledge by which people benefit, and a righteous child who prays for them (Ṣaḥīḥ Muslim 1631). The library’s Janāzah cards say what to do from the last breath to the filling of the grave.
The Hour and the Trumpet
The Qur’ān says the Trumpet will be blown, and that the earth and the heavens will be changed.
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے[1] مگر جسے اللہ چاہے[2]، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے.[3]
[1] بعض کےنزدیک (نفخۂ فزع کے بعد) یہ نفخۂ ثانیہ یعنی نفخۂ صعق ہے،جس سے سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض کےنزدیک یہ نفخۂ اولیٰ ہی ہے، اس سے اولاً سخت گھبراہٹ طاری ہو گی اور پھر سب کی موت واقع ہو جائے گی۔ بعض نے ان نفخات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے۔ پہلا نَفْخَةُ الفَنَاءِ۔ دوسرا نَفْخَةُ الْبَعْثِ۔ تیسرا نَفْخَةُ الصَّعْقِ۔ چوتھا نَفْخَةُ الْقِيَامِ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نَفْخَةُ الْمَوْتِ اور نَفْخَةُ الْبَعْثِ اوربعض کے نزدیک تین۔ وَاللهُ أَعْلَمُ۔
[2] یعنی جن کو اللہ چاہے گا،ان کو موت نہیں آئے گی، جیسے جبرائیل، میکائل اور اسرافیل۔ بعض کہتےہیں رضوان فرشتہ، حَمَلَةُ الْعَرْشِ (عرش اٹھانے والے فرشتے) اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ (فتح القدیر)۔
[3] چار نفخوں کے قائلین کےنزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کےنزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کےنزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب سے زندہ ہوکرمیدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوجائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔
جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان بھی[1] ، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے روبرو ہوں گے.
[1] امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت میں دونوں احتمال ہیں کہ یہ تبدیلی صفات کے لحاظ سے ہو یا ذات کے لحاظ سے۔ یعنی یہ آسمان و زمین اپنے صفات کے اعتبار سے بدل جائیں گے یا ویسے ہی ذاتی طور پر یہ تبدیلی آئے گی، نہ زمین رہے گی اور نہ یہ آسمان۔ زمین بھی کوئی اور ہوگی اور آسمان بھی کوئی اور۔ حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا :«يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ عَفْرَاءَ، كَقُرْصَةِ النَّقِيِّ لَيْس فِيهَا عَلَمٌ لأحَدٍ»۔ (صحيح مسلم، صفة القيامة، باب في البعث والنشور) « قیامت والے دن لوگ سفید بھوری زمین پر اکھٹے ہونگے جو میدہ کی روٹی کی طرح ہوگی۔ اس میں کسی کا کوئی جھنڈا (یا علامتی نشان) نہیں ہوگا»۔ حضرت عائشہ رضی اللہ نے پوچھا کہ جب یہ آسمان و زمین بدل دئیے جائیں گے تو پھر لوگ اس دن کہاں ہونگے؟ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”صراط پر“ یعنی پل صراط پر (حوالہ مذکور) ایک یہودی کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ ”لوگ اس دن پل کے قریب اندھیرے میں ہونگے“۔ (صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب بيان صفة مني الرجل)
A narration of Abū Hurayrah says that between the two blowings of the Trumpet there will be forty, and that when he was asked whether it meant days, months or years he declined to say (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4814). The same narration says that everything of the human body decays except the tailbone, and that from it the whole body will be put together again. A narration of Ḥudhayfah ibn Asīd lists the signs that come before the Hour, among them the smoke, the Dajjāl, the beast, the sun rising from the west, the descent of ʿĪsā the son of Maryam, and Gog and Magog (Ṣaḥīḥ Muslim 2901a). This page does not describe them further.
Resurrection and gathering
The Qur’ān answers those who doubt that bones can be gathered by saying that Allah is able to reassemble them, down to the fingertips.
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں.[1]
[1] یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالٰی یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں.[1]
[1] بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا۔
لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور بے نقشہ تھا[1] ۔ یہ ہم تم پر ﻇاہر کر دیتے ہیں[2]، اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں[3] پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں ﻻتے ہیں پھر تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وه ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں[4] اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دیئے جاتے ہیں کہ وه ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے[5]۔ تو دیکھتا ہے کہ زمین (بنجر اور) خشک ہے پھر ہم اس پر بارشیں برساتے ہیں تو وه ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے.[6]
[1] یعنی نطفے (قطرہ منی) سے چالیس روز بعد عَلَقَۃ گاڑھا خون اور عَلَقَۃ سے مُضْغَۃ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے مُخَلَّقَۃ سے، وہ بچہ مراد ہے جس کی پیدائش واضح اور شکل و صورت نمایاں ہو جائے، ایسے بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے اور تکمیل کے بعد اس کی ولادت ہوجاتی ہے اور غیر مخلقۃ، اس کے برعکس، جس کی شکل و صورت واضح نہ ہو، نہ اس میں روح پھونکی جائے اور قبل از وقت ہی وہ ساقط ہو جائے۔ صحیح حدیث میں بھی رحم مادر کی ان کیفیات کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلا ایک حدیث میں ہے کہ نطفہ چالیس دن کے بعد علقۃ (گاڑھا خون) بن جاتا ہے پھر چالیس دن کے بعد یہ مضغۃ(لوتھرڑا یا گوشت کی بوٹی) کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے یعنی چار مہینے کے بعد نفخ روح ہوتا ہے اور بچہ ایک واضح شکل میں ڈھل جاتا ہے (صحيح بخاري كتاب الأنبياء وكتاب القدر، مسلم كتاب القدر ، باب كيفية الخلق الآدميٍ)
[2] یعنی اس طرح ہم اپنا کمال قدرت و تخلیق تمہارے لئے بیان کرتے ہیں۔
[3] یعنی جس کو ساقط کرنا نہیں ہوتا۔
[4] یعنی عمر اشد سے پہلے ہی۔ عمر اشد سے مراد بلوغت یا کمال عقل و کمال قوت و تمیز کی عمر، جو 30 سے 40 سال کے درمیان عمر ہے۔
[5] اس سے مراد بڑھاپے میں قوائے انسانی میں ضعف و کمزوری کے ساتھ عقل و حافظہ کا کمزور ہو جانا اور یاداشت اور عقل و فہم میں بچے کی طرح ہو جانا، جسے سورہ یٰسین میں «وَمَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ»(یس:68) اور سورہ تین میں «ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ»(التین:5) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
[6] یہ احیائے موتی (مردوں کے زندہ کرنے) پر اللہ تعالٰی کے قادر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ پہلی دلیل، جو مذکورہ ہوئی، یہ تھی کہ جو ذات ایک حقیر قطرہ پانی سے اس طرح ایک انسانی پیکر تراش سکتا ہے اور ایک حسین وجود عطا کر سکتا ہے، علاوہ ازیں وہ اسے مختلف مراحل سے گزارتا ہوا بڑھاپے کے ایسے اسٹیج پر پہنچا سکتا ہے جہاں اس کے جسم سے لے کر اس کی ذہنی و دماغی صلاحیتیں تک، سب ضعف و انحطاط کا شکار ہوجائیں۔ کیا اس کے لئے اسے دوبارہ زندگی عطا کر دینا مشکل ہے؟ یقینا جو ذات انسان کو ان مراحل سے گزار سکتی ہے، وہی ذات مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے ایک نیا قالب اور نیا وجود بخش سکتی ہے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ دیکھو زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے لیکن اسے بارش کے بعد یہ کس طرح زندہ اور شاداب اور انواع و اقسام کے غلے، میوہ جات اور رنگ برنگ کے پھولوں سے مالا مال ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالٰی قیامت والے دن انسانوں کو بھی ان کی قبروں سے اٹھا کر کھڑا کرے گا۔ جس طرح حدیث میں ہے ایک صحابی(رضي الله عنه) نے پوچھا کہ اللہ تعالٰی انسانوں کو جس طرح پیدا فرمائے گا اس کی کوئی نشانی مخلوقات میں سے بیان فرمائیے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا کیا تمہارا گزر ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو پھر دوبارہ اسے لہلہاتا ہوا دیکھا ہو؟ اس نے کہا ہاں آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا بس اسی طرح انسانوں کی جی اٹھنا ہوگا۔(مسند احمد جلد 4، ص11 ابن ماجہ المقدمہ، حدیث نمبر 180)
A narration in Ṣaḥīḥ Muslim says that people will be gathered barefoot, naked and uncircumcised; when ʿĀʾishah asked whether men and women would look at one another, the Prophet ﷺ answered that the matter will be too serious for them to do so (Ṣaḥīḥ Muslim 2859a). A narration says that on that Day the sun is brought close to the creation, to a distance of a mile (Ṣaḥīḥ Muslim 2864), and another that seven will be in Allah’s shade on the day when there is no shade but His (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 660; Ṣaḥīḥ Muslim 1031a).
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے[1] اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے.[2]
[1] یہ قیامت کی ہولناکیاں اور بڑے بڑے واقعات کا بیان ہے۔ پہاڑوں کو چلائیں گے کا مطلب، پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑ جائیں گے۔ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ» (القارعة ۔5) ”اور پہاڑ ایسے ہونگے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون“، مزید دیکھئے سورۂ طور: 9، 10۔ سورۂ نمل: 88۔ سورۂ طہٰ: 105، 107۔ زمین سے جب پہاڑ جیسی مضبوط چیزیں ختم ہو جائیں گی، تو مکانات، درخت اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کس طرح وجود برقرار رکھ سکیں گی؟ اسی لئے آگے فرمایا ”تو زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا“۔
[2] یعنی اولین و آخرین، چھوٹے بڑے، کافر و مومن سب کو جمع کریں گے، کوئی زمین کی تہ میں پڑا نہ رہ جائے گا اور نہ قبر سے نکل کر کسی جگہ چھپ سکے گا۔
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے.[1]
[1] یہ ڈنڈی مارنے والے اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ایک بڑا ہولناک دن آنے والا ہے جس میں سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے جو تمام پوشیدہ باتوں کوجانتا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر نہیں ہے۔ احادیث میں آتا ہے، کہ جس وقت رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے تو پسینہ انسانوں کے آدھے آدھے کانوں تک پہنچا ہوگا۔ ( صحيح، بخاري، تفسير سورة المطففين ) ایک اور روایت میں ہے کہ قیامت والے دن سورج مخلوق کے اتنا قریب ہوگا کہ ایک میل کی مقدار کے قریب فاصلہ ہوگا۔ حدیث کے راوی حضرت سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے میل سے زمین کے مسافت والا میل مراد لیا ہے یا وہ سلائی جس سے سرمہ آنکھوں میں ڈالا جاتا ہے۔ پس لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے، یہ پسینہ کسی کے ٹخنوں تک، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کی کمر تک ہوگا اور کسی کے لئے یہ لگام بنا ہوا ہوگا، یعنی اس کے منہ تک پسینہ ہوگا۔ ( صحيح مسلم، صفة القيامة والجنة، باب في صفة يوم القيامة) ۔
Intercession
A long narration reports that the people, in their distress, seek someone to intercede for them with their Lord. They go to Ādam and the other prophets in turn and are sent on, until they come to Muḥammad ﷺ, who prostrates before his Lord and is told to ask and to intercede, and that his intercession will be accepted (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4712; Ṣaḥīḥ Muslim 193a). The Qur’ān says that no intercession is of any use without Allah’s permission.
اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻ ہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے[1] ، اس کی کرسی کی وسعت[2] نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاﻇت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔
[1] یہ آیت الکرسی ہے جس کی بڑی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے مثلاً یہ آیت قرآن کی اعظم آیت ہے۔ اس کے پڑھنے سے رات کو شیطان سے تحفظ رہتا ہے۔ ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے وغیرہ (ابن کثیر) یہ اللہ تعالیٰ کی صفات جلال، اس کی علو شان اور اس کی قدرت وعظمت پر مبنی نہایت جامع آیت ہے۔
[2] كُرْسِيٌّ سے بعض نے مَوْضِعُ قَدَمَيْنِ (قدم رکھنے کی جگہ)، بعض نے علم،بعض نے قدرت وعظمت، بعض نے بادشاہی اور بعض نے عرش مراد لیا ہے۔ لیکن صفات باری تعالیٰ کے بارے میں محدثین اور سلف کا یہ مسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات جس طرح قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں، ان کی بغیر تاویل اور کیفیت بیان کئے، ان پر ایمان رکھا جائے۔ اس لئے یہی ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ فی الواقع کرسی ہے جو عرش سے الگ ہے۔ اس کی کیفیت کیا ہے، اس پر وہ کس طرح بیٹھتا ہے؟ اس کو ہم بیان نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی حقیقت سے ہم بےخبر ہیں۔
اس دن سفارش کچھ کام نہیں آئے گی مگر جسے رحمنٰ حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے.[1]
[1] یعنی اس دن کسی کی سفارش کسی کو فائدہ نہیں پہنچائے گی، سوائے ان کے جن کو رحمٰن شفاعت کرنے کی اجازت دے گا، اور وہ بھی ہر کسی کی سفارش نہیں کریں گے بلکہ صرف ان کی سفارش کریں گے جن کی بابت سفارش کو اللہ پسند فرمائے گا اور یہ کون لوگ ہونگے؟ صرف اہل توحید، جن کے حق میں اللہ تعالٰی سفارش کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا سورہ نجم:26، سورہ انبیاء: ۲۸، سورہ سباء:۲۳، سورہ النباء: ۳۸ اور آیت الکرسی۔
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے.[1]
[1] یعنی فرشتے، جو اللہ کی مقرب ترین مخلوق ہیں، ان کوبھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لیے ملے گا جن کے لیے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی شفارش کر سکیں گی؟ جن سےتم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو شفارش کرنےکا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے؟
The reckoning
The Qur’ān speaks of a record, which each person will find spread open.
ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے[1] اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہٴ اعمال نکالیں گے جسے وه اپنے اوپر کھلا ہوا پالے گا.
[1] طَائِرٌ کے معنی پرندے کے ہیں اور عُنُقٌ کے معنی گردن کے۔ امام ابن کثیر نے طائر سے مراد انسان کے عمل کے لئے ہیں۔ فِي عُنُقِهِ کا مطلب ہے اس کے اچھے یا برے عمل، جس پر اس کو اچھی یا بری جزا دی جائے گی، گلے کے ہار کی طرح اس کے ساتھ ہوں گے۔ یعنی اس کا ہر عمل لکھا جا رہا ہے، اللہ کے ہاں اس کا پورا ریکارڈ محفوظ ہو گا۔ قیامت والے دن اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اور امام شوکانی نے طائر سے مراد انسان کی قسمت لی ہے، جو اللہ تعالٰی نے اپنے علم کے مطابق پہلے سے لکھ دی ہے، جسے سعادت مند اور اللہ کا مطیع ہونا تھا وہ اللہ کو معلوم تھا اور جسے نافرمان ہونا تھا، وہ بھی اس کے علم میں تھا، یہی قسمت (سعادت مندی یا بد بختی) ہر انسان کے ساتھ گلے کے ہار کی طرح چمٹی ہوئی ہو گی۔ اسی کے مطابق اس کے عمل ہوں گے اور قیامت والے دن اسی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔
لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے.
Some will be given the record in the right hand and some in the left, or from behind the back.
سو جسے اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وه کہنے لگے گا[1] کہ لو میرا نامہٴ اعمال پڑھو.[2]
[1] جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہوگا۔
[2] یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہوگا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہونگی تو اللہ نے معاف فرما دی ہونگی۔یا ان برائیوں کو بھی حسنات میں تبدیل کیا ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ فضل و کرم کی یہ مختلف صورتیں اختیان فرمائے گا۔
لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وه تو کہے گا کہ کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی.[1]
[1] کیونکہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہوگا۔
تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا.
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا.
There will be witnesses against a person: their own limbs and senses.
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے[1] تھے.
[1] یہ مہر لگانے کی ضرورت اس لئے پیش آئے گی کہ ابتداﺀً مشرکین قیامت والے دن بھی جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے «وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» (الأنعام: 23) ”اللہ کی قسم، جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے“۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، جس سے وہ خود توبولنے کی طاقت سے محروم ہو جائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرمائے گا، ہاتھ بولیں گے کہ ہم سے اس نے فلاں فلاں کام کیا تھا اور پاؤں اس پر گواہی دیں گے۔ یوں گویا اقرار اور شہادت، دونوں مرحلے طے ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا بول کر گواہی دینا، حجت واستدلال میں زیادہ بلیغ ہے کہ اس میں ایک اعجازی شان پائی جاتی ہے۔ (فتح القدیر) اس مضمون کو احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو صحیح مسلم، کتاب الزھد)۔
یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کےپاس آجائیں گے اور ان پر ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گی.[1]
[1] یعنی جب وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا، تو اللہ تعالیٰ ان کےمونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے اعضاء بول کر گواہی دیں گے کہ یہ فلاں فلاں کام کرتے رہے إِذَا مَا جَاءُواهَا میں مَا زائد ہے تاکید کے لیے . انسان کے اندر پانچ حواس ہیں۔ یہاں دو کا ذکر ہے۔ تیسری جلد (کھال) کا ذکر ہے جو مس یا لمس کا آلہ ہے۔ یوں حواس کی تین قسمیں ہو گئیں۔ باقی دو حواس کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ ذوق (چکھنا) بوجوہ لمس میں داخل ہے، کیونکہ یہ چکھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس شے کو زبان کی جلد پر نہ رکھا جائے۔ اسی طرح سونگھنا (شم) اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ شئے ناک کی جلد پر نہ گزرے۔ اس اعتبار سے جلود کے لفظ میں تین حواس آجاتے ہیں۔ (فتح القدیر)
And the deeds are weighed.
قیامت کے دن ہم درمیان میں ﻻ رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے ﻻ حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے.[1]
[1] مَوَازِينُ، مِيزَانٌ (ترازو) کی جمع ہے وزن اعمال کے لئے قیامت والے دن یا تو کئی ترازو ہونگے یا ترازو تو ایک ہی ہوگی انسان کے اعمال تو بےوزن ہیں یعنی ان کا کوئی ظاہری وجود یا جسم تو ہے نہیں پھر وزن کس طرح ہوگا؟ یہ سوال آج سے قبل تک شاید کوئی اہمیت رکھتا ہو۔ لیکن آج سائنسی ایجادات نے اسے ممکن بنا دیا ہے۔ اب ان ایجادات کے ذریعے سے بےوزن چیزوں کا وزن بھی تولا جانے لگا ہے۔ جب انسان اس بات پر قادر ہوگیا ہے، تو اللہ کے لئے ان اعمال کا، جو اعراض ہیں، وزن کرنا کون سا مشکل امر ہے، اس کی تو شان ہی عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ انسانوں کو دکھلانے کے لئے ان بےوزن اعمال کو وہ اجسام میں بدل دے گا اور پھر وزن کرے، جیسا کہ حدیث میں بعض اعمالوں کے مجسم ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلا! صاحب قرآن کے لئے ایک خوش شکل نوجوان کی شکل میں آئے گا۔ اور پوچھے گا، تو کون ہے؟ وہ کہے گا میں قرآن ہوں جسے تو راتوں کو (قیام اللیل) بیدار رہ کر اور دن کو پیاسا رہ کر پڑھا کرتا تھا ( مسند أحمد 5/ 348 ، 235 وابن ماجه، كتاب الأدب، باب ثواب القرآن )، اسی طرح مومن کی قبر میں عمل صالح ایک خوش رنگ اور معطر نوجوان کی شکل میں آئے گا اور کافر اور منافق کے پاس اس کی برعکس شکل میں (مسند أحمد 5/287)۔ اس کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ الاعراف ۷ کا حاشیہ القِسْطَ مصدر اور الْمَوَازِينَ کی صفت ہے معنی ہیں ذَوَاتُ قِسْطٍ انصاف کرنے والی ترازو یا ترازوئیں۔
اور اس روز وزن بھی برحق ہے پھر جس شخص کا پلا بھاری ہوگا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔
اور جس شخص کا پلا ہلکا ہوگا سو یہ وه لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ﻇلم کرتے تھے۔[1]
[1] ان آیات میں وزن اعمال کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جو قیامت والے دن ہوگا اور جسے قرآن کریم میں بھی متعدد جگہ اور احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ترازو میں اعمال تولے جائیں گے، جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ کامیاب ہوگا اور جس کا بدیوں والا پلڑا بھاری ہوگا، وہ ناکام ہوگا۔ یہ اعمال کس طرح تولے جائیں گے جب کہ یہ اعراض ہیں یعنی ان کا ظاہری وجود اور جسم نہیں ہے؟ اس بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کو اجسام میں تبدیل فرما دے گا اور ان کا وزن ہوگا۔ دوسری رائے تو یہ ہے کہ وہ صحیفے اور رجسٹر تو لے جائیں گے جن میں انسان کے اعمال درﺝ ہوں گے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ خود صاحب عمل کو تولا جائے گا۔ تینوں مسلکوں والوں کے پاس اپنے مسلک کی حمایت میں صحیح احادیث و آثار موجود ہیں، اس لئے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تینوں ہی باتیں صحیح ہوسکتی ہیں ممکن ہے کبھی اعمال، کبھی صحیفے اور کبھی صاحب عمل کو تولا جائے (دلائل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر) بہرحال میزان اور وزن اعمال کا مسئلہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اس کا انکار یا اس کی تاویل گمراہی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو اس کے انکار کی اب مزید کوئی گنجائش نہیں کہ بے وزن چیزیں بھی تولی جانے لگی ہیں۔
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے.[1]
[1] مَوَازِينُ، مِيزَانٌ کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورۂ اعراف: 8، سورۂ کہف: 105 اور سورۂ انبیاء: 47 میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہوگا۔ ( فتح القدیر ) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اور وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے.[1]
[1] یعنی جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی، اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔
پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
[1] پس وہ اس سے خوش ہوگا۔
اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا.[1]
[1] وہ اس پرسخت پشیمان اور مضطرب ہوگا۔ ذَرَّةٍ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پرجو مٹی لگ جاتی ہے، وہ ذرہ ہے۔ بعض کےنزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گرد وغبار کے جو ذرات نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آمیوں کے بیان میں نازل ہوئی ہے۔ جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر) ۔
A narration says that the first of a servant’s deeds to be called to account is the prayer; al-Tirmidhī calls it ḥasan gharīb, and later graders differ on it (Jāmiʿ al-Tirmidhī 413). Another says that the first cases to be decided among people are those of bloodshed (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6533; Ṣaḥīḥ Muslim 1678a). A narration in Ṣaḥīḥ Muslim describes the person who comes with prayer, fasting and charity but has abused, slandered or wronged others; their good deeds are given to those they wronged, and if these run out, the sins of those wronged are put on them (Ṣaḥīḥ Muslim 2581).
The bridge
تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے واﻻ ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شده امر ہے.
پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچالیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے.[1]
[1] اس کی تفسیر صحیح حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر پل بنایا جائے گا جس میں ہر مومن وکافر کو گزرنا ہوگا۔ مومن تو اپنے اعمال کے مطابق جلد یا بدیر گزر جائیں گے، کچھ تو پلک جھپکنے میں، کچھ بجلی اور کچھ ہوا کی طرح، کچھ پرندوں کی طرح اور کچھ عمدہ گھوڑوں اور دیگر سواریوں کی طرح گزر جائیں گے یوں کچھ بالکل صحیح سالم، کچھ زخمی تاہم پل عبور کرلیں گے کچھ جہنم میں گر پڑیں گے جنہیں بعد میں شفاعت کے ذریعے سے نکال لیا جائے گا۔ لیکن کافر اس پل کو عبور کرنے میں کامیاب نہیں ہونگے اور سب جہنم میں گر پڑیں گے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جس کے تین بچے بلوغت سے پہلے وفات پا گئے ہوں، اسے آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم حلال کرنے کے لئے۔ (البخاري- كتاب الجنائز، ومسلم كتاب البر) یہ قسم وہی ہے جسے اس آیت میں حَتْمًا مَقْضِيًّا (قطعی فیصل شدہ امر) کہا گیا ہے، یعنی اس کا ورود جہنم میں صرف پل پر گزرنے کی حد تک ہی ہوگا۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر وایسر التفاسیر)
The edition’s note on 19:71 says that the verse refers to the bridge called the ṣirāṭ, over Hell. A long narration describes it: some will escape and be safe, some will be lacerated and let go, and some will be pushed into the Fire, while the messengers call out for safety (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573; Ṣaḥīḥ Muslim 183a). A narration says that the believers, once saved from the Fire, are stopped at a bridge between Paradise and Hell, where what remains between them is settled, and that when they are cleansed they are admitted to Paradise (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6535). The Qur’ān speaks of the light of the believers.
(قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ مومن مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا[1] آج تمہیں ان جنتوں کی خوش خبری ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔ یہ ہے بڑی کامیابی.[2]
[1] یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہوگا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہوگا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کرلیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیر ہ ما نے وَبِأَيْمَانِهِمْ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔
[2] یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کےلیے وہاں ہوں گے۔
Who enters Paradise and who enters Hell
The Qur’ān sets out the two outcomes in these verses.
بیشک جو لوگ اہل کتاب میں کافر ہوئے اور مشرکین سب دوزخ کی آگ میں (جائیں گے) جہاں وه ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ یہ لوگ بدترین خلائق ہیں.[1]
[1] یہ اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابون کا انکار کرنے والوں کا انجام ہے۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔
بیشک جو لوگ ایمان ﻻئےاور نیک عمل کیے یہ لوگ بہترین خلائق ہیں.[1]
[1] یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کیے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف وفضل میں بہترین ہیں ۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ الْبَرِيَّةُ، بَرَأَ ( خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت البارئ ہے۔ اس لئے بَرِيَّةٌ، اصل میں بَرِيئَةٌ ہے،ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کایا میں ادغام کردیاگیا۔
ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشگی والی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا[1] اور یہ اس سے راضی ہوئے[2]۔ یہ ہے اس کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرے.[3]
[1] ان کے ایمان اور طاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔ «وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ» (التوبة:72) ۔
[2] اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔
[3] یعنی یہ جززا اور اضا مندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے درتے رہے اور اس ڈر کی وجہ سے اللہ کینافرمانی کے ارتکاب سے بچتے رہے ۔اگر کسی وقت بہ تقا ضائےشریعت نا فرمانی ہو گئی تو فور توبہ کر لی اور آئندہ کے لئےاپنی اصلاحکر لی ،حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ مصیبت پر ،اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا مصیبت پر اصرار اور دوام نیئں کر سکتا اور جو ایسا کرتا ہے ، حقیقت میں اس کا دل اللہ ک خوف سے خالی ہے
A narration says that Allah will order those who had faith equal to the weight of a grain of mustard seed to be taken out of the Fire (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 22), and another speaks of those who used to testify that none has the right to be worshipped but Allah being brought out (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573). Verse 39:53, on Allah’s mercy, is shown above. This page gives no verdict on any person.
Paradise
کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے[1] ، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے.[2]
[1] نَفْسٌ، نکرہ ہے جو عموم کا فائدہ دیتا ہے یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ان نعمتوں کو جو اس نے مذکورہ اہل ایمان کے لئے چھپا کر رکھی ہیں جن سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔ اس کی تفسیر میں نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ حدیث قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا، نہ کسی انسان کے وہم وگمان میں ان کا گزر ہوا“۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ السجدۃ)۔
[2] اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت کا مستحق بننے کے لئے اعمال صالحہ کا اہتمام ضروری ہے۔
ان ایمان دار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعده فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہیں جہاں وه ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزه محلات[1] کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے[2]، یہی زبردست کامیابی ہے۔
[1] جو موتی اور یاقوت تیار کئے گئے ہوں گے۔ عدن کے کئی معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی ہمیشگی کے ہیں۔
[2] حدیث میں بھی آتا ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کے بعد اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کی صورت میں ملے گی (صحيح بخاري ومسلم- كتاب الرقاق وكتاب الجنة)
جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی[1] اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں وه اس میں ہمیشہ رہیں گے.
[1] اس زیادہ کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں لیکن حدیث میں اس کی تفسیر دیدار باری تعالٰی سے کی گئی ہے جس سے اہل جنت کو جنت کی نعمتیں دینے کے بعد، مشرف کیا جائے گا (صحيح مسلم كتاب الإيمان، باب إثبات رؤية المؤمنين في الآخرة لربهم)
اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے.
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے.[1]
[1] یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
A narration in al-Bukhārī and Muslim quotes Allah as saying that He has prepared for His righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and no heart has imagined (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3244; Ṣaḥīḥ Muslim 2824a). The edition’s note on 10:26 says that “the best reward and more” is Paradise and the seeing of Allah. Narrations say that the believers will see their Lord as they see the full moon (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 554; Ṣaḥīḥ Muslim 633a).
Hell
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے[1] جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وه عذاب چکھتے رہیں[2]، یقیناً اللہ تعالیٰ غالب حکمت واﻻ ہے۔
[1] یعنی جہنم میں اہل کتاب کے منکرین ہی نہیں جائیں گے، بلکہ دیگر تمام کفار کا ٹھکانہ بھی جہنم ہی ہے۔
[2] یہ جہنم کے عذاب کی سختی، تسلسل اور دوام کا بیان ہے۔ صحابہ کرام (رضي الله عنهم) سے منقول بعض آثار میں بتلایا گیا ہے۔ کھالوں کی یہ تبدیلی دن میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں مرتبہ عمل میں آئے گی اور مسند احمد کی روایت کی رو سے جہنمی جہنم میں اتنے فربہ ہو جائیں گے کہ ان کے کانوﮞ کی لو سے پیچھے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت جتنا ہوگا، ان کی کھال کی موٹائی ستر بالشت اور داڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی۔
منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے[1] ، ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پالے۔
[1] جہنم کا سب سے نچلا طبقہ ”هَاوِيَة“ کہلاتا ہے۔أَعَاذَنَا اللهُ مِنْهَا، منافقین کی مذکورہ عادات وصفات سے ہم سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ بچائے۔
A narration says that the fire of this world is one part of seventy parts of the fire of Hell (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3265; Ṣaḥīḥ Muslim 2843a), and another that the one with the lightest punishment has two embers placed under his feet, so that his brain boils (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6562; Ṣaḥīḥ Muslim 213a; in a variant, two shoes of fire, Ṣaḥīḥ Muslim 213b). The verse on the hypocrites speaks of the lowest depths of the Fire. This page does not describe Hell further.
After judgment
A narration says that death will be brought in the form of a ram and slaughtered, and that it will then be said to the people of both: eternity, and no death (Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4730; Ṣaḥīḥ Muslim 2849a). Verses 98:6 and 98:8, above, speak of staying forever in the Fire and in the Gardens of Eternity, and this page says no more than they do.
References
Verses of the Qur’ān, by sūrah and verse, all shown above: 2:255; 3:169; 4:18; 4:48; 4:56; 4:145; 6:61; 7:8–9; 7:172; 9:72; 10:26; 14:27; 14:48; 16:32; 17:13–15; 17:85; 18:47; 19:71–72; 20:109; 21:47; 22:5; 23:12–14; 23:99–100; 30:30; 32:11; 32:17; 36:65; 39:53; 39:68; 41:20; 50:17–18; 51:56; 53:26; 57:12; 63:11; 67:2; 69:19; 69:25; 75:3–4; 75:22–23; 82:10–12; 83:6; 84:7; 84:10; 98:6–8; 99:7–8; 101:6; 101:8.
Narrations, by collection and number as sunnah.com numbers them: al-Bukhārī by the numbering of Fatḥ al-Bārī; Muslim by Muḥammad Fuʾād ʿAbd al-Bāqī’s numbers, with the letter sunnah.com adds where it divides one; al-Tirmidhī by sunnah.com’s numbering of the Jāmiʿ.
- Before life and the womb: Ṣaḥīḥ Muslim 2653b; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3208; Ṣaḥīḥ Muslim 2643a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1358.
- Repentance, deeds and mercy: Jāmiʿ al-Tirmidhī 3537; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 5673; Ṣaḥīḥ Muslim 2816a.
- The grave: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1369; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 1374; Ṣaḥīḥ Muslim 1631.
- The Hour, resurrection and gathering: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4814; Ṣaḥīḥ Muslim 2901a; Ṣaḥīḥ Muslim 2859a; Ṣaḥīḥ Muslim 2864; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 660; Ṣaḥīḥ Muslim 1031a.
- Intercession and the reckoning: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4712; Ṣaḥīḥ Muslim 193a; Jāmiʿ al-Tirmidhī 413; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6533; Ṣaḥīḥ Muslim 1678a; Ṣaḥīḥ Muslim 2581.
- The bridge and the two abodes: Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6573; Ṣaḥīḥ Muslim 183a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6535; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 22; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3244; Ṣaḥīḥ Muslim 2824a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 554; Ṣaḥīḥ Muslim 633a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 3265; Ṣaḥīḥ Muslim 2843a; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 6562; Ṣaḥīḥ Muslim 213a; Ṣaḥīḥ Muslim 213b; Ṣaḥīḥ al-Bukhārī 4730; Ṣaḥīḥ Muslim 2849a.
From the Sabīl library: the supplication for refuge from four things, in Adhkār of the Prayers; and Janāzah, linked, not quoted.
Where to go next
- The Qur’ān has every verse above in its sūrah, with its meanings.
- Īmān and belief in the Qur’ān and the Sabīl library gathers verses on what is believed, among them the Last Day.
- Janāzah is the library’s title on what is done at a death and at the grave.
سبیل کا میل باکس تیار کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی کوئی اسے پڑھنے لگے گا، یہ مضمون تصحیح یا رائے بھیجنے کا طریقہ بتا دے گا۔