Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Az-Zumar
Sura ya 39

Az-Zumar

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 24–26

أَفَمَن يَتَّقِى بِوَجْهِهِۦ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّـٰلِمِينَ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ 24 كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ 25 فَأَذَاقَهُمُ ٱللَّهُ ٱلْخِزْىَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْـَٔاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ 26

کیا پس جو شخص بچتا ہے اپنے چہرے کے ذریعے سے برے عذاب سے دن قیامت کے (وہ برابر ہے جنتی کے؟)اور کہا جائے گا ظالموں سے‘ چکھو تم (مزا ) اس کاجو تھے تم کماتے (24) جھٹلایا (تھا) ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے‘ تو آیا ان کے پاس عذاب ایسی جگہ سے کہ نہیں وہ شعور رکھتے تھے (25) پس چکھائی ان کو اللہ نے رسوائی دنیا کی زندگی میں اور البتہ عذاب آخرت کا بہت بڑا ہے‘ کاش کہ وہ ہوتے جانتے (26)

[24] کیا یہ شخص، جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو اپنی گمراہی پرجما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آ پہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے؟ اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے۔ چہرہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤ ں جھکڑے ہوئے ہوں گے۔ ﴿وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ﴾ کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجروتوبیخ کے طور پر کہا جائے گا: ﴿ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کرتوتوں کا مزہ چکھو۔‘‘

[25]﴿كَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ ﴾ گزشتہ قوموں نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ﴿فَاَتٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’تو ان پر ایسی جگہ سے عذاب آگیا کہ انھیں خبر ہی نہ تھی۔‘‘ ان پر یہ عذاب ان کی غفلت کے اوقات میں یا دن کے وقت یا اس وقت آ نازل ہوا جب وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔

[26]﴿فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’پس اللہ نے انھیں چکھایا۔‘‘ یعنی اس عذاب کے ذریعے سے ﴿الۡخِزۡيَ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ دنیا ہی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے ہاں رسوا ہو گئے۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ١ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے کاش! وہ جان لیتے۔‘‘ اس لیے ان لوگوں کو آپ کی تکذیب پر جمے رہنے سے بچنا چاہیے ورنہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو گا جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا تھا۔