Saad
Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.
Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21
إِنَّا سَخَّرْنَا ٱلْجِبَالَ مَعَهُۥ يُسَبِّحْنَ بِٱلْعَشِىِّ وَٱلْإِشْرَاقِ 18 وَٱلطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهُۥٓ أَوَّابٌ 19 وَشَدَدْنَا مُلْكَهُۥ وَءَاتَيْنَـٰهُ ٱلْحِكْمَةَ وَفَصْلَ ٱلْخِطَابِ 20
بے شک ہم نے تابع کردیا تھا پہاڑوں کو اس کےساتھ، وہ تسبیح بیان کرتے تھے شام و صبح (18) اور پرندوں کو بھی دراں حالیکہ وہ اکٹھے کر دیے جاتے تھے سب اس کےآگے رجوع کرنے والے تھے (19) اور مضبوط کر دی تھی ہم نے بادشاہی اس کی اور دی تھی ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن خطاب(کی صلاحیت)(20)
[18، 19] یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کر دیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے تھے ﴿بِالۡعَشِيِّ وَالۡاِشۡرَاقِ﴾ صبح اور شام کو ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ تابع کردیا ﴿الطَّيۡرَ مَحۡشُوۡرَةً ﴾ ’’پرندوں کو بھی وہ سمٹ کر آگئے‘‘ یعنی وہ اس کے پاس جمع کردیے گئے۔ ﴿كُلٌّ ﴾ ’’سب کے سب‘‘ پہاڑ اور پرندے اللہ تعالیٰ کے لیے ﴿لَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ ’’مطیع تھے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے ﴿يٰؔجِبَالُ اَوِّبِيۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ﴾(سبا: 34؍10) ’’اے پہاڑو! تم اس (داؤ د) کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔‘‘ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا۔
[20] پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَشَدَدۡنَا مُلۡكَهٗ﴾ ’’اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔‘‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی سازوسامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقتور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤ دu پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰتَيۡنٰهُ الۡحِكۡمَةَ ﴾ یعنی ہم نے آپ کو نبوت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ ﴿وَفَصۡلَ الۡخِطَابِ ﴾ ’’اور بات کا فیصلہ (سکھایا)‘‘ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔