Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Ar-Room
Sura ya 30

Ar-Room

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 25–27

وَمِنْ ءَايَـٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ بِأَمْرِهِۦ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ 25 وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُۥ قَـٰنِتُونَ 26 وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ 27

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے یہ کہ قائم ہیں آسمان اور زمین اس کے حکم سے، پھر جب وہ پکارے گا تمھیں ایک بار پکارنا، زمین میں سےتو ناگہاں تم (باہر) نکل آؤ گے(25) اور اسی کے لیے ہیں جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کے فرماں بردار ہیں (26) اور وہی ہے (اللہ) جو پہلی بار پیدا کرتا ہے مخلوق کو ، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا اسے، اور وہ زیادہ آسان ہے اس پر، اور اسی کے لیے ہے مثال اعلیٰ آسمانوں اور زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(27)

[25] اس کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم، ثابت اور ٹھہرے ہوئے ہیں وہ دونوں متزلزل ہوتے ہیں نہ آسمان زمین پر گرتا ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو گرنے سے روک رکھا ہے۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جب وہ مخلوق کو پکارے تو تمام مخلوق زمین سے نکل کھڑی ہو۔ ﴿لَخَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اَكۡبَرُ مِنۡ خَلۡقِ النَّاسِ ﴾(المؤمن:40؍57) ’’آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے یقیناً زیادہ بڑا کام ہے۔‘‘

[26]﴿وَلَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ ہر چیز اس کی مخلوق اور مملوک ہے، وہ اپنی مخلوق میں کسی کی منازعت و معارضت اور کسی کے تعاون کے بغیر تصرف کرتا ہے، تمام مخلوق اس کے جلال کے سامنے فروتن اور اس کے کمال کے سامنے سرافگندہ ہے۔

[27]﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ‘‘ یعنی تمام مخلوق کی موت کے بعد ان کی تخلیق کا اعادہ کرنا۔ ﴿اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾ ’’اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘ انھیں پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے۔ یہ ذہن اور عقل کی نسبت سے ہے کہ جب وہ تخلیق کی ابتدا کرنے پر قادر ہے، جس کا تمھیں خود بھی اقرار ہے، تو تخلیق کے اعادہ پر قدرت آسان تر اور زیادہ اولیٰ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد، جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے ہیں، اہل ایمان نصیحت پکڑتے ہیں اور ہدایت یافتہ لوگ اس سے بصیرت حاصل کرتے ہیں… بہت عظیم معاملے اور بہت بڑے مقصد کا تذکرہ کیا:﴿وَلَهُ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے۔‘‘ اس سے مراد ہر صفت کمال ہے اور اس کمال سے اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے دلوں میں محبت، انابت کامل، ذکر جلیل اور ان کی عبادت میں کمال مراد ہے۔یہاں (الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى) سے مراد اس کے بلند ترین وصف اور اس پر مترتب ہونے والے آثار ہیں۔ اس لیے اہل علم اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں قیاس اولیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ مخلوقات کی ہر صفت کمال سے، ان کو پیدا کرنے والا اللہ متصف ہونے کا زیادہ مستحق ہے، مگر اس طرح کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ ہر وہ نقص، جس سے مخلوق اپنے آپ کو بچاتی ہے خالق کا اس وصف سے منزہ ہونا اولیٰ و احریٰ ہے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ﴾ وہ غلبۂ کامل اور بے پایاں حکمت کا مالک ہے اس نے اپنے غلبے کی بنا پر مخلوقات کو وجود بخشا اور مامورات کو ظاہر کیا اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنی بنائی چیزوں کو مہارت سے بنایا، ان کے اندر اپنی شرع کو بہترین طریقے سے مشروع کیا۔