Ruka hadi kwenye maudhui
Tafsir As-Saadi - Urdu · Maryam
Sura ya 19

Maryam

Hii ni tafsiri kwa lugha isiyo Kiarabu kama ilivyo katika Quranic Universal Library (QUL, ya Tarteel), iliyochukuliwa kupitia nakala huria ya data ya QUL inayohifadhiwa na spa5k/tafsir_api. Rekodi ya QUL haisemi ni nani aliyeiandika au kuitafsiri kwa lugha nyingine wala inafuata toleo gani lililochapishwa, na haitaji leseni kwa matini hiyo, kwa hiyo haki ya kuionyesha haijathibitishwa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa, na hakuna mwanazuoni aliyeihakiki. Kila kifungu kipo kando ya aya inazozifafanua, ambazo ni matini ya Qur’ani ya Tanzil, inavyoonekana huko. Sabīl haikuandika wala kutafsiri kwa lugha nyingine chochote kati yake.

Maandishi kutokaQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITilichukuliwa 2026-10-21

Aya 66–67

وَيَقُولُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَءِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا 66 أَوَلَا يَذْكُرُ ٱلْإِنسَـٰنُ أَنَّا خَلَقْنَـٰهُ مِن قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْـًٔا 67

اور کہتا ہے انسان، کیا جب میں مر جاؤں گا تو البتہ نکالا جاؤں گا (قبر سے) زندہ (کر کے)؟ (66) کیا نہیں یاد کرتا انسان کہ بے شک ہم ہی نے پیدا کیا ہے اسے پہلے اس سے اور نہ تھا وہ کچھ بھی (67)

[66] یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کیے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے:﴿ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوۡفَ اُخۡرَجُ حَيًّا ﴾ یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہو چکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا سا بھی غوروفکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کیے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔

[67] بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰهُ مِنۡ قَبۡلُ وَلَمۡ يَكُ شَيۡـًٔؔا ﴾ کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جانے کے بعد اس کو دوبار اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اورپھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اَوَلَا يَذۡكُرُ الۡاِنۡسَانُ ﴾ میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غوروفکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے اس کا انکار، پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔