Ruka hadi kwenye maudhui
Kitabu cha 8 · Ihya Ulum al-Din
Kitabu cha 8 · اردو

تلاوتِ قرآن کا بیان

Tafsiri hii ni ya mtafsiri wake, si ya Sabīl. Inaonyeshwa kama chanzo chake kinavyoitoa, kama matini ya pekee chini ya kila kitabu kwa vichwa vya mtafsiri mwenyewe: haisimami mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, na inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijaihakiki dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia.

Imetafsiriwa na Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںImesomwa kutoka dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)ilichukuliwa 2026-10-22

Chanzo kinasema hivi kuihusu: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.

سب خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور قرآن مجید کے ذریعے بندوں پر احسان فرمایا ، قرآن پاک کی شان (بیان کرتے ہوئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا) ہے: ’’ لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖؕ-تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ(۴۲) (1 )یہاں تک کہ غوروفکر کر نے والوں پر اس کے قصوں اور خبروں سے عبرت پانے کا راستہ کشادہ اور سیدھا راستہ واضح ہو گیا جس میں احکام کی تفصیل اور حلال وحرام کی تفریق ہے ، یہ روشنی اور نور ہے ، اس کے ذریعے غرور سے نجات ملتی ہے ، اس میں سینے کی بیماریوں سے شفا ہے ، ظالموں میں سے جس نے اِس کی مخالفت کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی کمر توڑ دی ، جس نے اس کے علاوہ کسی اور کتاب میں علم تلاش کیا اسے گمراہ کر دیا ، یہ مضبوط رسی ، واضح نور اور پختہ گرہ اور مکمل طور پر محفوظ پناہ گاہ ہے ، یہ قلیل وکثیر اور چھوٹے بڑے کو گھیرے ہوئے ہے ، اس کے عجائب وغرائب ختم نہیں ہوتے ، اہلِ علم کے نزدیک کوئی چیز اس کے فوائد کا احاطہ نہیں کر سکتی ، تلاوت کرنے والوں کے نزدیک بار بار تلاوت کرنے سے بھی یہ پرانی نہیں ہوتی ، یہ وہ کتاب ہے جس نے اوّلین وآخرین کی رہنمائی فرمائی ، جب جنوں نے اسے سنا تو فوراً اپنی قوم کی طرف پلٹے اور انہیں ڈراتے ہوئے کہا: ’’ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ(۱) یَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖؕ-وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ(۲) (2 )

اس پر ایمان لانے والا توفیق یافتہ ہوگیا ، اس کا قائل ہی اس کی تصدیق کرنے والا ہے ، اسے مضبوطی سے تھامنے والا ہدایت یافتہ ہو گیا ، اس پر عمل کرنے والا فلاح پاگیا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)(3 ) قلوب ومصاحف میں قرآن کے محفوظ رہنے کا سبب اس کی پابندی سے تلاوت کرنااور ظاہری آداب کا لحاظ رکھنا ہے ۔ نیز قرآن پاک کے آداب وشرائط کو ملحوظِ خاطر رکھنا ، اس میں بیان کردہ باطنی اعمال اور ظاہری آداب کی

پابندی کرنا بھی اس کے محفوظ رہنے کا سبب ہے ، اس لئے ان امور کا بیان اور ان کی تفصیل ضروری ہے اور اس کے مقاصد چار ابواب میں بیان کئے جائیں گے:

{1}…قرآن اور قاریٔ قرآن کی فضیلت کا بیان ۔

{2}…تلاوت کے ظاہری آداب کا بیان ۔

{3}…تلاوت کے باطنی آداب کا بیان ۔

{4}…قرآنِ پاک سمجھنے اور اس کی تفسیر بالرائے وغیرہ کابیان ۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

{…’’بسم اللّٰہ ‘‘شریف کی برکات وفوائد…}

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1548 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’فیضانِ سنّت جلد اول‘‘ صَفْحَہ 134تا135پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانی ٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمدالیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَّہ نقل فرماتے ہیں :{۱}جو کوئی سوتے وقت بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم 21بار (اول آخر ایک باردرود شریف) پڑھ لے اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ اس رات شیطان ، چوری ، اچانک موت اور ہر طر ح کی آفت وبلا سے محفوظ رہے ۔ {۲} جو کسی ظالم کے سامنے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم 50بار(اول آخر ایک باردرود شریف)پڑھے اس ظالم کے دل میں پڑھنے والے کی ہیبت پیداہو اور اُس کے شر سے بچارہے ۔ {۳} جو شخص طلوع آفتاب کے وقت سورج کی طر ف رخ کر کے بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم 300بار اور(کوئی بھی) درود شریف 300بار پڑھے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا اور(روزانہ پڑھنے سے) اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ ایک سال کے اندر اندر امیر وکبیر ہوجائے گا ۔ {۴} کند ذہن اگر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم 786بار (اول آخر ایک باردرود شریف)پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لے تو اِنْ شَآءَاللہُ عَزَّ وَجَلَّ اس کا حافظہ مضبوط ہوجائے اور جو بات سنے یاد رہے ۔ ( شمس المعارف مترجم ، ص ۷۳)

1 ترجمۂ کنزالایمان : باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے اتارا ہوا ہے حکمت والے سب خوبیوں سراہے کا ۔ (پ۲۴ ، حٰم1 السجدۃ:۴۲)

2 ترجمۂ کنزالایمان : تو بولے ہم نے ایک عجیب قرآن سناکہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے اور ہم ہر گز کسی کو اپنے ربّ کا شریک نہ کریں گے ۔ (پ۲۹ ، الجن:۱ ، ۲)

3 ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ (پ۱۴ ، الحجر:۹)

باب نمبر1: قرآن اور قاریٔ قرآن کی فضیلت

فضائل تلاوت کے متعلق 11فرامین مصطفیٰ:

{1}… ’’جس نے قرآن پڑھا پھر یہ خیال کیا کہ کسی کو اس سے افضل عطا کیا گیا تو تحقیق اس نے اس چیز کو چھوٹا جانا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے عظمت دی ۔ ‘‘ (1 )

{2}… ’’بروز قیامت کوئی شفاعت کرنے والاقرآنِ پاک سے زیادہ مرتبہ والا نہ ہوگا نہ کوئی نبی ، نہ کوئی فرشتہ اور نہ ہی کوئی اور ۔ ‘‘ (2 )

{3}… ’’اگر قرآنِ پاک چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہ چھوئے گی(3 ) ۔ ‘‘ (4 )

{4}… ’’ اَفْضَلُ عِبَادَۃِ اُمَّتِیْ تِلَاوَۃُ الْقُرْاٰنِ یعنی میری اُمَّت کی افضل عبادت تلاوتِ قرآن ہے ۔ ‘‘ (5 )

{5}… ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق پیدا کرنے سے ہزار سال پہلے سورۂ طٰہٰ اور یٰسین کی تلاوت فرمائی ، جب فرشتوں نے قرآن سنا تو بولے: خیر و خوبی ہے اس امت کو جس پر یہ اترے گی اور خوبی ہے ان سینوں کو جو اسے اٹھائیں گے اور خوبی ہے ان زبانوں کو جو اسے پڑھیں گی ۔ ‘‘ (6 )

{6}… ’’ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَعَلَّمَہٗ یعنی تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے(7 ) ۔ ‘‘ (8 )

{7}…حدیث قدسی ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’جسے تلاوتِ قرآن مجھ سے مانگنے اور سوال کرنے سے مشغول (روک )رکھے میں اسے شکر گزاروں کے ثواب سے افضل عطا فرماؤں گا ۔ ‘‘ (9 )

{8}… ’’تین قسم کے لوگ بروز قیامت سیاہ کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے انہیں کسی قسم کی گھبراہٹ نہ ہو گی ، نہ ان سے حساب لیا جائے گا یہاں تک کہ لوگ حساب سے فراغ ہوں ۔ (ان میں سے ایک:)وہ شخص ہے جس نے رضائے الٰہی کے لئے قرآنِ پاک کی تلاوت کی اور لوگوں کی امامت کی جبکہ وہ اس سے خوش ہوں ۔ ‘‘ (10 )

{9}… ’’اہل قرآن اللّٰہ والے اور اس کے خاص لوگ ہیں(11 ) ۔ ‘‘ (12 )

{10}…دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے ۔ عرض کی گئی: ’’ یارَسُوْلَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ

تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اس کی جِلا(صفائی) کس چیزسے ہوگی؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تلاوتِ قرآن اور موت کی یادسے ۔ ‘‘ (13 )

{11}… ’’ گانے والی لونڈی کا مالک جتنی توجہ سے اسے سنتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سے زیادہ توجہ قرآن پڑھنے والے کی طرف فرماتاہے ۔ ‘‘ (14 )

17اقوال بزرگان دین:

{1}…حضرتِ سیِّدُناابو اُمامہ باہلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’قرآن پڑھا کرو ، یہ لٹکے ہوئے قرآن تمہیں مغالطے میں نہ ڈالیں بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس دل کو عذاب نہ دے گا جو قرآنِ پاک کے لئے برتن ہے ۔ ‘‘ (15 )

{2}… حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’جب تم حصول علم کا ارادہ کرو تو قرآنِ پاک میں غور وفکر کرو کیونکہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے ۔ ‘‘ (16 )

{3}… انہی سے منقول ہے ، فرماتے ہیں :’’قرآن پڑھو بے شک تمہیں اس کے ہر حرف کے بدلے 10نیکیاں دی جائیں گی میں یہ نہیں کہتا کہ الٓمّٓۚ ایک حرف ہے بلکہ ’’الف‘‘ ایک حرف ، ’’لام‘‘ ایک حرف اور ’’میم‘‘ ایک حرف ہے ۔ ‘‘

{4}… مزید فرماتے ہیں : ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ سے قرآن کے متعلق ہی پوچھے اگر وہ قرآن سے محبت کرتا اور اسے پسند کرتا ہے تو وہ اللّٰہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اگر قرآن سے محبت نہیں کرتا تو وہ اللّٰہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں کرتا ۔ ‘‘

{5}… حضرتِ سیِّدُناعمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’قرآنِ پاک کی ہر آیت ِمبارکہ جنت کا ایک درجہ اور تمہارے گھروں کا چراغ ہے ۔ ‘‘

{6}…مزید فرماتے ہیں : ’’جس نے قرآن پڑھا اس نے نبوت کو اپنے دونوں پہلوؤں کے درمیان جمع کر لیا مگر یہ کہ اس کی طرف وحی نہیں کی جاتی ۔ ‘‘

{7}…حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے وہ اپنے رہنے والوں پر کشادہ ہوتا ہے ، اس کی بھلائی کثیر ہوتی ہے ، اس میں فرشتے حاضر ہوتے اور شیاطین اس سے نکل جاتے ہیں اور جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا وہ اپنے رہنے والوں پر تنگ ہو جاتا ہے ، اس کی بھلائی کم ہو جاتی ہے ، اس سے فرشتے نکل جاتے اور شیاطین آجاتے ہیں ۔ ‘‘

{8}… حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل فرماتے ہیں : میں خواب میں دیدار الٰہی سے مشرف ہوا ، میں نے عرض کی: ’’اے ربّ عَزَّوَجَلَّ ! تیرے نزدیک کون سا عمل افضل ہے جس کے ذریعے مقربین تیرا قرب حاصل کرتے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’اے احمد! وہ میرا پاک کلام(قرآن پاک) ہے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’اے ربّ عَزَّوَجَلَّ ! اسے سمجھ کر پڑھنے یا بغیرسمجھے پڑھے ۔ ‘‘ارشاد فرمایا: ’’سمجھ کر پڑھے یا بغیر سمجھے ۔

{9}…حضرتِ محمد بن کعب قرظی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن جب لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے قرآن سنیں گے تو انہیں ایسا لگے گا گویا کبھی انہوں نے قرآن سنا ہی نہیں ۔ ‘‘

{10}… حضرتِ سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : ’’قرآن یاد کرنے والے اور اس پر عمل کرنے والے کو چاہئے کہ وہ کسی کا محتاج نہ ہو ، نہ اسے خلفا سے کوئی سروکار ہو اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی اور سے بلکہ لوگوں کو اس کا محتاج ہونا چاہئے ۔ ‘‘

{11}… مزید فرماتے ہیں : ’’حافظ قرآن اسلام کا جھنڈا اٹھانے والا ہے ، اسے چاہئے کہ وہ حقِ قرآن کی تعظیم کرتے ہوئے لہو ولعب ، بھولنے والوں اور لغو کام کرنے والوں کا ساتھ نہ دے ۔ ‘‘

{12}… حضرتِ سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جب بندہ قرآن پڑھتا ہے تو فرشتہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیتا ہے ۔ ‘‘

40 kati ya 593
Matini ya Kiarabu
كتاب آداب تلاوة القرآن

Maandishi kutokaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472ilichukuliwa 2026-10-21

Hii ni matini ya Kiarabu ya Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn ya al-Ghazālī kama ilivyo katika mkusanyo wa OpenITI, kutoka nakala ya Shamela ya chapa ya Dār al-Maʿrifa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa wala hati ya mkono, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia. Mkusanyo huo unasema kuwa katika kurasa kadhaa sehemu ya matini imekosekana na kwamba tanbihi za mhariri zimechanganyika na matini; vyote vinaonyeshwa kama vilivyo. Kurasa za chapa zimewekewa alama pale zinapoishia. Tafsiri ni za watafsiri wake; kila moja imesomwa kutoka nakala iliyotajwa pamoja nayo na inaonyeshwa kama matini ya pekee chini ya kila kitabu, kwa vichwa vyake yenyewe: hakuna iliyowekwa mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, Kiingereza cha Karim kinafupisha kitabu kama mtafsiri wake asemavyo, na kila moja inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijatafsiri chochote, haijaihakiki tafsiri yoyote dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia yoyote.