زبان کی آفات کا بیان
Tafsiri hii ni ya mtafsiri wake, si ya Sabīl. Inaonyeshwa kama chanzo chake kinavyoitoa, kama matini ya pekee chini ya kila kitabu kwa vichwa vya mtafsiri mwenyewe: haisimami mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, na inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijaihakiki dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia.
Imetafsiriwa na Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںImesomwa kutoka dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)ilichukuliwa 2026-10-22
Chanzo kinasema hivi kuihusu: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
(اس میں ایک مقدمہ اور دوباب ہیں)
مقدمہ:
تمام تعریفیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئےہیں جس نے انسان کو اچھی اورمعتدل صورت پرپیدا کیااور اس کے اندر ایمان کا نور ڈال کر اسے ایمان سے آراستہ و مُزَیَّن کیا ۔ بیان سکھاکراس کے سبب (دیگر مخلوقات پر)اسے بلندی اور فضیلت عطا فرمائی اور دل میں مخفی وپوشیدہ عُلُوم ڈال کر کامل بنایاپھر اپنی رحمت سے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا ۔ زبان کے ذریعے اس کی مدد فرمائی تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنے دل اورعقل کی ترجمانی کرے اور دل پر پڑے ہوئے پردے کو دور کرے ۔ زبان کو حمد کہنے پر قدرت عطا فرمائی اور علم و کلام جیسی نعمتیں عطا کرکے شکر ادا کرنے کی نعمت سےنوازا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلّ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایسے بندے اور رسول ہیں جن کارب تعالیٰ نے اعزازو اکرام فرمایااور ایسے نبی ہیں جنہیں کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایاجس میں ہر چیز کی تفصیل ہےاور ایسے دین کے ساتھ بھیجا جس میں بندوں کے لئے آسانی ہے ۔ جب تک ایک بندہ بھی تکبیر و تہلیل کرتا رہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آپ پر، آپ کی آل پر،آپ کے اصحاب پر اورآپ کی دعوت قبول کرنے والوں پردرود نازل ہوتا رہے ۔
بے شک زبان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی بنائی ہوئی عجیب وغریب اور لطیف اشیاء میں سے ایک شےہے، اس کا سا ئز چھو ٹا لیکن اس کی اطاعت اورنافرمانی بڑی ہے اس لئےکہ کفر و ایمان کا ظُہُورمحض زبان کی شہادت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اِیمان اِطاعت کا اور کُفر نا فرمانی کا انتہائی درجہ ہے ۔ ہر چیز خواہ وہ موجود ہو یا معدوم ،خالِق ہو یا مخلوق ،خیالی ہو یا معلوم،ظنی ہو یا وہمی ،ان سب کا تعلق زبان سے ہے ۔ زبان ان کو ثابت کرتی ہے یا ان کی نفی کرتی ہے ۔ حق ہو یاباطل جس شے کو بھی علم شامل ہو زبان اسے بیان کرتی ہےاور علم ہر شے کو شامل ہے ۔ یہ ایسی خاصیت ہے جو دیگر اعضاءمیں نہیں پائی جا تی کیو نکہ آنکھ کی رسائی رنگوں اور صورتوں کے علاوہ کسی تک نہیں جبکہ کان آواز کے علاوہ کچھ نہیں سن سکتے اور ہاتھ کی پہنچ اجسام کے
علاوہ کسی تک نہیں ۔ اسی طرح دیگر اعضاء کا معاملہ ہے جبکہ زبان کا میدان وسیع ہے اس کے لئے نہ کوئی رکاوٹ ہے اورنہ کوئی حد وانتہا ۔ نیکی و بھلائی میں اس کا میدان وسیع ہے اور شر میں اس کا دامن لمبا ہے لہذا جو اپنی زبان کو کھلی آزادی دے دیتا ہے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہےتوشیطان اس کو ہر میدان میں داخل كر ديتاہے اورگرنے کے قریب گڑھے کے کنارےلے جاتا ہے حتی کہ اسے ابدی ہلاکت پر مجبور کر دیتا ہے ۔ یہ زبان ہی لوگوں کو فضول گفتگو کے سبب جہنم میں منہ کے بل گراتی ہے ۔ زبان کے شر سے وہی نجات پا سکتا ہے جو اسے شریعت کی لگام دے کر قابو کرے اور اسے ان چیزوں میں استعمال کرے جو اسے دنیا و آخرت میں نفع دیں اور اسے ہر اس چیز سے روکے جس کے فتنے و مصیبت کا دنیا و آخرت میں خوف ہو ۔ کس جگہ زبان کو استعمال کرنا اچھاہے اور کہاں برا ہے ، اس بات کا علم مخفی اور پیچیدہ ہے اور جو اس بات کو پہچان لے اس کے لئے اس پر عمل مشکل اور دُشوار ہے ۔ انسان کے اَعضاء میں جس عضو سے سب سے زیادہ گناہ سر زد ہو تے ہیں وہ زبان ہی ہے کیو نکہ اس کو استعمال کرنے اور اسے حرکت دینے میں کوئی مشقت وتکلیف نہیں اٹھانی پڑتی اور لوگ اس کی آفات اور فتنے وفسادات سے بچنے اور اس کے جالوں اور پھندوں سے محتاط رہنے کے معاملے میں سستی سے کام لیتے ہیں حالانکہ انسان کو بہکانے میں یہ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔
زبان کی20آفات اجمالاً:
ہم اللہعَزَّ وَجَلَّ کی مدداور اس کی حُسن ِتو فیق سے زبان کی آفات کو تفصیل سے ذکر کریں گے اور ایک ایک کر کے ان کی تعریفات ،ان کے اسباب اور ان کے فتنوں کو ذکر کریں گے اورزبان کے فتنوں سے بچنے کے طریقے کی پہچان کرائیں گےاور ان کی مذمت میں وارد احادیث و روایات لائیں گے ۔ پہلےہم خاموشی کی فضیلت بیان کریں گےاس کے بعد(زبان کی آفات میں سے)(۱)…بے فائدہ گفتگو کی آفت کو ذکر کریں گےپھر (۲)…فضول کلام کی آفت پھر(۳)…باطل میں مشغول ہونےکی آفت پھر(۴)…مِراء وجِدال کی آفت پھر (۵)…خُصُومَت کی آفت پھر(۶)…بتکلف فصاحت کے اظہار،ہم قافیہ الفاظ کے استعمال اوربناوٹی خطابت کے دعویداروں میں پائی جانے والی باتوں کے ذریعے مشکل اور پیچیدہ کلام کرنے کی آفت پھر(۷)…فُحْش کلامی، گالی گلوچ اور بدکلامی کی آفت پھر(۸)…لعنت بھیجنے کی آفت خواہ کسی حیوان پر ہو یابے جان چیز یاانسان پر ہو
پھر(۹)…گا نے اور شعر کی آفت اور کون سا گانا حرام ہے اور کون سا حلال اسے ہم سَماع کے بیان میں ذکر کر چکے لہذا ہم اسے دوبارہ نہیں ذکر کریں گےپھر(۱۰)…مزاح کی آفت پھر(۱۱)… مَذاق مَسْخَرِی اور ٹھٹھے کی آفت پھر(۱۲)…راز کھولنے کی آفت پھر(۱۳)…جھوٹا وعدہ کرنے کی آفت پھر (۱۴)…جھوٹ بو لنے اور جھوٹی قسم کھانے نیز تعریضاًجھوٹ بولنے کی آفت کا بیان پھر (۱۵)…غیبت کی آفت پھر(۱۶)…چغلی کی آفت پھر(۱۷)…منافق اور دو غلے شخص کی آفت کہ جو (فساد پھیلانے کی غرض سے) دو دشمنوں کے پاس آتا جا تا ہے اور ہر ایک سے اس کے موافق گفتگو کر تا ہےپھر(۱۸)…مَدْح وتعریف کی آفت پھر(۱۹)…دوران کلام باریک غلطیوں سے غفلت کا بیان بالخصوص اس کلام میں جو اللہعَزَّ وَجَلَّ اور اس کی صفات اور دین کے اصول کے ساتھ متعلق ہے پھر (۲۰)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات اور اس کے کلام کے بارے میں عوام کے سوال کرنے کو ذکر کریں گے اور اس بارے میں سوال کرنے کی آفت بیان کریں گے کہ حُرُوف قدیم ہیں یا حادث ۔
یوں یہ کل 20آفتیں ہوئیں اور ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے فضل و کرم کی بدولت حُسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں ۔
باب نمبر1: زبا ن کا خطره اورخاموشی کے فضائل
زبان كا خطره بہت بڑا ہے اور اس کے خطرےسے نجات صرف خاموشی میں ہے اسی وجہ سے شریعت نے خاموشی کی تعریف بیان کی ہے اور اس کی ترغیب دی ہے ۔ چنانچہ
زبان کی حفاظت سے متعلق 30روایات:
(1)… مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو چپ رہا اس نے نجات پائی ۔ (1 )
(2)… اَلصَّمْتُ حُکْمٌ وَّقَلِیْلٌ فَاعِلُہٗ یعنی خاموشی حکمت ہے مگر اس كو اختيار کرنے والے تھوڑے ہیں ۔ (2 )
(3)…حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن سفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے والد سے رِوایت كر تے ہیں کہ ان کے والد نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے اسلام سے متعلق کسی ایسی بات کی خبر دیجئے جس کے بارے میں آپ کے بعد میں کسی سے نہ پو چھوں؟ارشاد فرمایا:”یہ کہومیں ایمان لایا پھر
[1] سنن الترمذی ، کتاب صفة القیامة ، ۴ / ۲۲۵ ، حدیث : ۲۵۰۹
[2] شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان ، ۴ / ۲۶۴ ، حدیث : ۵۰۲۷
اس پر قائم رہو ۔ “ میں نے عرض کی: میں کس چیز سےڈروں؟ تو آپ نے اپنے ہاتھ مُبارَک سے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا ۔ (1 )
(4)…حضرت سیِّدُنا عُقْبہ بن عامِر رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نجات کیا ہے؟فرمایا:اپنی زبان كی حفاظت کرو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرےاور اپنے گناہوں پرآنسو بہاؤ ۔ (2 )
(5)… مَنْ یَتَکَفَّلَ لِیْ بِمَابَیْنَ لِحْـیَیْہٖ وَرِجْلَیْہٖ اَتَکَفَّلُ لَـہٗ بِالْجَنَّة یعنی جو مجھے دونوں جبڑوں اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز (یعنی زبان اور شرم گاہ)کی حفاظت كی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔ (3 )
(6)… مَنْ وُّقِیَ شَرَّقَبْقَبِہٖ وَذَبْذَبِہٖ وَلَقْلَقِہٖ فَقَدْ وُقِیَ الشَّرَّ کُلَّہٗ یعنی جسے پیٹ،شرم گاہ اور زبان کے شر سے بچایا گیا اسے تمام کے تمام شر سے بچایا گیا ۔ (4 )
انہی تین شہوات کی وجہ سے اکثر لوگ ہلاک ہو تے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم پیٹ اور شرم گاہ کی آفت ذکر کرنے کے بعد زبان کی آفات ذکر کرنے میں مشغول ہو ئے ہیں ۔
(7)…سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس عمل كے متعلق سوال كيا گیا کہ جو لوگوں کو کثرت سے جنت میں داخل کرے گا توارشاد فرمایا:” اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا اور حسن اخلاق ۔ “ اور اس عمل کے بارے میں سوال کیا گیا جو كثرت سے جَہَنَّم میں داخل کرے گاتو ارشاد فرمایا: ”دو خالی اور كشاده جگہیں منہ اور شرم گاہ ۔ “(5 )
ممکن ہے منہ سے مراد زبان کی آفات ہوں کیونکہ منہ زبان کا محل ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ منہ سے مراد پیٹ ہو کیو نکہ منہ پیٹ کا داخلی راستہ ہے ۔
[1] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان ، ۴ / ۱۸۴ ، حدیث : ۲۴۱۸بتغیر
[2] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان ، ۴ / ۱۸۴ ، حدیث : ۲۴۱۴
[3] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب فی حفظ اللسان ، ۴ / ۱۸۲ ، حدیث : ۲۴۱۶
[4] فردوس الاخبار ، ۲ / ۳۱۱ ، حدیث : ۶۳۹۴بتغیر
[5] سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی حسن الخلق ، ۳ / ۴۰۴ ، حدیث : ۲۰۱۱
(8)…حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَل رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بيان فرماتے ہیں کہ میں نےرسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہماری گفتگو پر بھی پکڑ ہو گی؟ ارشاد فرمایا: اے ابْنِ جَبَل!تیری ماں تجھ پر روئے (یہ بات بطور شفقت فرمائی )بے فائدہ وفضول گفتگو ہی لوگوں کو جَہَنَّم میں اوندھے منہ گرائےگی ۔ (1 )
(9)…حضرت سیِّدُنا سُفْيان بن عبد اللہ ثَقَفی رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نےبارگاہِ رسالت میں عرض كی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے کوئی ایسی بات بیان کیجیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ۔ ارشاد فرمایا:”یہ کہومیرا رب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے پھر اس پر قائم رہو ۔ “ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! آپ مجھ پر سب سے زیادہ کس چیز کا خوف کرتے ہیں؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر ارشاد فرمایا:”اس کا ۔ “(2 )
(10)…حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے شافع محشر، نورکے پیکر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !كون ساعمل افضل ہے؟ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی زبان مبارک باہر نکالی پھر اپنی مبار ک انگلی اس پر رکھ دی ۔ (3 )
(11)…بندے کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل ٹھیک نہ ہو جائے اور اس کا دل اس وقت تک ٹھیک نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کی زبان دُرُست نہ ہو جائے اور وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔ (4 )
(12)… مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَّسْلَمَ فَلْیَلْزَمِ الصَّمْتَ یعنی جو(دنيا میں مخلوق کی اذیت اور آخرت میں خالق کے عذاب سے) سلامت رہنا پسندکرتا ہے اسے چاہئے کہ خاموشی اختیار کرے ۔ (5 )
[1] سنن الترمذی ، کتاب الایمان ، باب ماجاء فی حرمة الصلاة ، ۴ / ۲۸۰ ، حدیث : ۲۶۲۵
[2] سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی حفظ اللسان ، ۴ / ۱۸۴ ، حدیث : ۲۴۱۸
[3] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت ، ۷ / ۳۱ ، حدیث : ۸
[4] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت ، ۷ / ۳۱ ، حدیث ۹
[5] موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الصمت ، ۷ / ۳۴ ، حدیث : ۱۱
(13)…آدمی جب صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء، زبان سے کہتے ہیں:ہمارے بارے میں اللہعَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہناکیو نکہ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی درست رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے ۔ (1 )
Maandishi kutokaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472ilichukuliwa 2026-10-21
Hii ni matini ya Kiarabu ya Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn ya al-Ghazālī kama ilivyo katika mkusanyo wa OpenITI, kutoka nakala ya Shamela ya chapa ya Dār al-Maʿrifa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa wala hati ya mkono, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia. Mkusanyo huo unasema kuwa katika kurasa kadhaa sehemu ya matini imekosekana na kwamba tanbihi za mhariri zimechanganyika na matini; vyote vinaonyeshwa kama vilivyo. Kurasa za chapa zimewekewa alama pale zinapoishia. Tafsiri ni za watafsiri wake; kila moja imesomwa kutoka nakala iliyotajwa pamoja nayo na inaonyeshwa kama matini ya pekee chini ya kila kitabu, kwa vichwa vyake yenyewe: hakuna iliyowekwa mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, Kiingereza cha Karim kinafupisha kitabu kama mtafsiri wake asemavyo, na kila moja inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijatafsiri chochote, haijaihakiki tafsiri yoyote dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia yoyote.