آداب طعام کا بیان(1)
Tafsiri hii ni ya mtafsiri wake, si ya Sabīl. Inaonyeshwa kama chanzo chake kinavyoitoa, kama matini ya pekee chini ya kila kitabu kwa vichwa vya mtafsiri mwenyewe: haisimami mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, na inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijaihakiki dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia.
Imetafsiriwa na Al-Madina-tul-Ilmiyah (Dawateislami's translation department)احیاء العلوم (اردو ترجمہ)، پانچ جلدیںImesomwa kutoka dawateislami.net (Maktabat-ul-Madina)ilichukuliwa 2026-10-22
Chanzo kinasema hivi kuihusu: The site names the writer as Al Madina-tul-Ilmiyah and the publisher as Maktaba-tul-Madina, with the five volumes published between April 2012 and 2015 and updated in March 2023; it states no licence. The translation sets the Arabic of the verses and narrations in the text, with its own headings and foot-notes giving the sources.
تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے کائنات کی بہترین تدبیر فرمائی ، زمین وآسمان کو پیدا فرمایا، بادلوں سے میٹھا پانی نازل فرماکر اس سے کھانا اور سبزہ اگایا، رزق و غذا کو مقدَّر فرمایا، غذا کے ذریعے حیوانات کے اجسام کی حفاظت فرمائی اور رزقِ حلال کے ذریعے نیکی اوربھلائی کے کاموں پر اعانت فرمائی اور روشن معجزات والے حضرت سیِّدُنا محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ہر لمحہ بار بار درود اور خوب سلام ہو۔
عقل مندوں کا مقصدِحقیقی جنت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات (اور اس کا دیدار)ہے اور اس سے ملاقات کے لئے علم وعمل کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں اور علم وعمل پر استقامت بدن کی سلامتی کے ساتھ ہی ممکن ہے اور جسم کی سلامتی مختلف اوقات میں بقدرِضرورت کھانے پر موقوف ہے،اسی لئے بعض بزرگوں نے فرمایا:’’ اِنَّ الْاَ کْلَ مِنَ الدِّیْن یعنی کھانا دین سے ہے۔‘‘اسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ مجیدفرقانِ حمیدمیں اشارہ فرمایا: كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ- ( پ ۱۸، المؤمنون :۵۱، ترجمۂ کنزالایمان :پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو۔)پس جو علم وعمل اور تقویٰ پر قوت حاصل کرنے کے لئے کھانا چاہے تواسے چاہئے کہ اپنے نفس کو چراگاہ میں چرنے والے جانوروں کی طرح یونہی کھلا نہ چھوڑ دےکہ کھانے میں بالکل بے تکلف ہو جائے۔ چونکہ کھانا دین کے قیام کا ذریعہ و وسیلہ ہے تو چاہئے کہ اس پر دین کے انوار ظاہر ہوں اور اس کے انوار وہ آداب و احکام ہیں جن پر بندے کو عمل کا پابند بنایا جاتا ہےاور متقی و پرہیزگار ہی پابندی سے ان پر عمل کرتا ہے۔ پس جب خواہش کے وقت کھانے یا نہ کھانے کو شریعت کے ترازو میں تولا جاتا ہے تواس کے سبب کھانے کا بوجھ کم ہوجاتا اور اجر و ثواب کی صورت بن جاتی ہےاگرچہ اس میں نفس کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔
گھر والوں کو کھلانے پر اجر:
حضورنبیّ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اِنَّ الرَّجُلَ لَیُؤ ْجَرُ حَتٰی فِی اللُّقْمَۃِ یَرْفَعُہَا اِلٰی فِیْہٖ وَ ا ِلٰی فِی اِمْرَأَتِہٖ یعنی بندے کو اس لقمے پر بھی اجر ملتا ہے جو وہ خود کھاتا یا اپنی زوجہ کو کھلاتا ہے۔‘‘(2 )
اس پر اجر و ثواب کا استحقاق اسی صورت میں ہوگا کہ شرعی حدود اور سنن و آداب کی رعایت کرتے ہوئے کھانا کھایا جائے،لہٰذا ہم کھانے کے متعلق دین کے اَحکام یعنی کھانے کے فرائض،سنتیں، آداب، صفات اور اس کاطریقہ چار ابواب اور ایک فصل میں بیان کریں گے:
(۱)…تنہا کھانے کے آداب(۲)…مل کر کھانے کے آداب(۳)…ملاقات کے لئے آئے ہوئے اسلامی بھائیوں کو کھانا کھلانے کے آداب(۴)…ضیافت و مہمان نوازی وغیرہ کےآداب۔
باب نمبر1: تنہا کھانے کے آداب
تنہا کھانے والے کوتین امور پیش نظر رکھنے چاہئیں:(۱)…کھانے سے پہلے کے آداب (۲)…کھاتے وقت کے آداب (۳)…کھانے کے بعد کے آداب۔
(1)…کھانے سے پہلے کے سات آداب:
(1)…کھانا حلال ہو، کمانے کا طریقہ بھی جائز ہو: سنت اور تقویٰ و پرہیزگاری کے مطابق کمایا گیا ہو نہ کہ ناجائز طریقے سے،نیز خواہش نفس کی وجہ سے بھی نہ کمایا گیا ہو اور نہ ہی مُدَاہَنَت فِی الدِّیْن (3 )مقصود ہو جیسا کہ’’حلال وحرام کے بیان‘‘ میں آئے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ’’طیِّب‘‘یعنی حلال کھانے کا حکم دیا اور حرام کھانے کی ممانعت کو قتل کی ممانعت پر اس لئے مقدَّم کیا تاکہ حرام کھانے سے بچنے کی اہمیت اور رزقِ حلال کی عظمت ظاہر ہو جائے۔ چنانچہ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹) ( پ ۵، النسآء :۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو اوراپنی جانیں قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔
کھانے میں اصل حلت (یعنی حلال ہونا) ہے اور یہ بات فرائض و اصولِ دین میں سے ہے۔
کھانے کا وضو محتاجی دور کرتا ہے:
(2)…ہاتھ دھونا:حضورنبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ اَ لْوُضُوْ ء ُ قَبْلَ الطَّعَامِ یَنْفِی الْفَقْرَ وَ بَعْدَہُ یَنْفِی اللَّمَم یعنی کھانے سے پہلے وُضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا)فقر کو دور کرتا اور بعد میں دھونا دیوانگی(یعنی پاگل پن) کو دور کرتا ہے۔‘‘(4 )
ایک روایت میں ہے:’’ یَنْفِی الْفَقْرَ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَہُ یعنی کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا (یعنی ہاتھ دھونا)محتاجی کو دُور کرتا ہے۔‘‘(5 )
چونکہ کام کاج کی وجہ سے عموماً ہاتھ میلے ہوجاتے ہیں، لہٰذا کھانے سے پہلے انہیں دھو لینے میں صفائی سھترائی زیادہ ہے، نیز دینی امور پر مدد حاصل کرنے کی نیت سے کھانا عبادت ہے تو مناسب ہے کہ اس سے پہلے وہ کام کیا جائے جو نماز سے پہلے کیا جاتا(یعنی وضو وغیرہ کرکے طہارت حاصل کرنا)ہے۔
(3)…کھانا زمین پر بچھے دسترخوان پر رکھ کر کھایا جائے:یہ طریقہ میزپر کھانے کی بنسبت سنت سے زیادہ قریب ہے کہ جب کھانا حاضر کیا جاتا تو پیارے مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے زمین پر رکھتے(6 )
کہ یہ عاجزی و انکساری کے زیادہ قریب ہے اگر ایسا ممکن نہ ہو توایسے دسترخوان پر کھائے جسے سُفرہ کہا جاتا ہے کہ اس سے سفر کا تصور قائم ہو گا اورسفر کے تصوُّرسے سفر آخرت کی فکر اور اس کے لئے زادِ راہ (یعنی تقویٰ و پرہیزگاری اور اعمالِ صالحہ)ذخیرہ کرنے کا ذہن بنے گا۔
ٹیبل کرسی پر کھانا سنت نہیں:
حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خوان پرکھانا کھایا نہ ہی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں۔‘‘(7 )پوچھا گیا:’’ آپ حضرات کس چیز پر کھاتے تھے؟‘‘فرمایا:’’(زمین پر بچھے)دستر خوان پر(8 )۔‘‘
سب سے پہلی بدعتیں:
منقول ہے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سب سے پہلے چار بدعتیں ظاہر ہوئیں: (۱)…چھنی (۲)…اَشنان(ایک قسم کی بوٹی جو صابن کی مثل صفائی کا کام دیتی ہے)(۳)…اونچے دسترخوان(یعنی ٹیبل وغیرہ) اور(۴)…پیٹ بھر کر کھانا۔
٭…تنبیہ:یاد رہے!دستر خوان پر کھانا کھانا اگرچہ اَولیٰ ہے مگر ٹیبل، کرسی پر کھانا ناجائز یا مکروہ نہیں۔
یہ جو کہا گیا ہے کہ چار چیزیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد پیدا ہوئیں تو اس سے ان کا ممنوع ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ ’’وہ بدعت(نیا کام)منع ہے جو ثابت شدہ سُنَّت کے خلاف اور شریعت کے کسی کام کو ختم کرنے والا ہو جبکہ اس کا سبب باقی ہو۔‘‘بعض اوقات جب اَسباب بدل جائیں تو نیا کام شروع کرنا واجب ہوتا ہے اور میز پر کھانا صرف اس لئے رکھا جاتا ہے کہ کھانا اونچا ہوجائے تاکہ کھانے میں آسانی رہے اور اس طرح کے کاموں میں کراہِیَت نہیں ہوتی۔
مذکورہ اشیاء کا استعمال:
مذکورہ اشیاءجنہیں بدعت کہا گیاہےسب ایک سی نہیں بلکہ اَشنان کا استعمال اچھا ہے کیونکہ صفائی کے لئے دھونا مستحب ہے اور اشنان سے صفائی زیادہ حاصل ہوتی ہے۔ رہا یہ کہ اس وقت اشنان استعمال نہ کیا جاتا تھا تو اس کی درج ذیل وجوہات ہو سکتی ہیں:٭…اس زمانہ میں اس کی عادت نہ تھی٭… یا مُیَسَّر نہ تھا٭…یاوہ ایسے کاموں میں مشغول تھے جو صفائی میں مبالغہ سے زیادہ اہم تھے اسی لئے وہ حضرات ہاتھ تلووں سے صاف کرلیا کرتے تھے اور ان کا ایسا کرنا دھونے کے مستحب ہونے کو مانع نہیں۔
آٹا چھان کر پکانے سے کھانے کو اچھا کرنا مقصود ہے اور یہ مباح ہے جب تک زیادہ عیش وعشرت کی طرف نہ جایا جائے۔ٹیبل پر کھانا بھی مباح ہے جبکہ غُرور وتکَبُّر سے نہ ہواورپیٹ بھر کر کھانا یہ ان میں سب سے سخت ہے کیونکہ یہ خواہشات میں ہیجان اور دوا کے اسباب پیدا کرتا ہے۔پس غوروفکر کرنے والا ان میں فرق کو جان لے گا۔
کھانا کھاتے وقت بیٹھنے کا سُنَّت طریقہ:
(4)…دسترخوان پر شروع سے آخر تک اچھے انداز پر بیٹھنا:مصطفٰے جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کبھی گھٹنوں کے بل بیٹھتے،کبھی پاؤں کے بل، کبھی دایاں گھٹنا کھڑا کرکے بائیں پر بیٹھتے(9 )اور فرماتے: لَا اٰکُلُ مُتَّکِئًا اِنَّمَا اَنَا عَبْدٌ اٰکُلُ کَمَا یَاْکُلُ الْعَبْدُ وَاَشْرَبُ کَمَا یَشْرَبُ الْعَبْدُ یعنی میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا(10 )،میں بندہ ہوں، اسی طرح کھاتا ہوں جس طرح بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح پیتا ہوں جس طرح بندہ پیتا ہے۔(11 )
ٹیک لگا کر کھانے پینے کا حکم:
لیٹ کر اور ٹیک لگا کر کھانا پینا مکروہ ہے اور معدہ کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔البتہ چند دانےکھانے میں حرج نہیں۔ منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے چِت لیٹے ڈھال پر رکھ کر کیک کھایا اور ایک قول ہے کہ پیٹ کے بل لیٹ کر کھایا اور اہل عرب ایسا کرتے تھے۔
کھانا کھانے کی نیت:
(5)…کھاناعبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے کھایاجائے:تاکہ کھانا بھی عبادت ہومحض لذت مقصود نہ ہو۔
حضرت سیِّدُناابرہیم بن شیبان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:’’میں نے 80برس سے کوئی بھی چیز فقط لذتِ نفس کی خاطر نہیں کھائی۔‘‘
کم کھانے کی نیت بھی ہو کہ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت جبھی سچی ہوگی کیونکہ پیٹ بھر کر کھانے سے عبادت میں الٹا رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، نیز اس سے قوت نہیں ملتی۔ پس نیت کا تقاضا یہ ہے کہ خواہشات کو ختم کیا جائے اور کم پر قَنا عَت کو ترجیح دی جائے۔
کھانا کتنا کھانا چاہئے؟
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ صحت نشان ہے:’’ آ دمی اپنے پیٹ سے زیادہ برا برتن نہیں بھرتا، انسان کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اگر ایسا نہ کرسکے تو تہائی (۱/۳) کھانے کے لئے، تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس کے لئے ہو۔‘‘(12 )
Maandishi kutokaOpenITICC BY-NC-SA 4.0Shamela 9472ilichukuliwa 2026-10-21
Hii ni matini ya Kiarabu ya Iḥyāʾ ʿUlūm al-Dīn ya al-Ghazālī kama ilivyo katika mkusanyo wa OpenITI, kutoka nakala ya Shamela ya chapa ya Dār al-Maʿrifa. Hakuna aliyeilinganisha na kitabu kilichochapishwa wala hati ya mkono, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia. Mkusanyo huo unasema kuwa katika kurasa kadhaa sehemu ya matini imekosekana na kwamba tanbihi za mhariri zimechanganyika na matini; vyote vinaonyeshwa kama vilivyo. Kurasa za chapa zimewekewa alama pale zinapoishia. Tafsiri ni za watafsiri wake; kila moja imesomwa kutoka nakala iliyotajwa pamoja nayo na inaonyeshwa kama matini ya pekee chini ya kila kitabu, kwa vichwa vyake yenyewe: hakuna iliyowekwa mstari kwa mstari kando ya Kiarabu, Kiingereza cha Karim kinafupisha kitabu kama mtafsiri wake asemavyo, na kila moja inabeba kasoro za nakala iliyosomwa. Sabīl haijatafsiri chochote, haijaihakiki tafsiri yoyote dhidi ya Kiarabu, na hakuna mwanazuoni aliyeipitia yoyote.