At-Tawba
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ 128 فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ 129
یقینا آگیا ہے تمھارے پاس ایک عظیم رسول تم میں سے، شاق (گراں ) ہے اس پر تمھارا تکلیف میں مبتلا ہونا، حریص ہے اوپر (بھلائی) تمھاری کے، ساتھ مومنوں کے نہایت شفیق و مہربان ہے (128) پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے! کافی ہے مجھے اللہ، نہیں ہے کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اوروہی ہے رب عرش عظیم کا (129)
[128] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی اُمیﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ، وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہﷺ ان کے بے انتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لیے کوشش کرنے والے ہیں ۔ ﴿ عَزِيۡزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ ﴾ ’’تمھاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔‘‘ یعنی آپﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمھیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ حَرِيۡصٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’حریص ہیں تمھاری بھلائی پر‘‘ پس آپﷺ تمھارے لیے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمھیں بھلائی تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں ، ایمان تک تمھاری راہ نمائی کے خواہش مند ہیں ۔ آپ شر کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور شر سے تمھیں نفرت دلانے کے لیے پوری کوشش صرف کرتے ہیں ﴿ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے مہربان ہیں ۔‘‘ یعنی اہل ایمان کے لیے انتہائی رافت و رحمت کے حامل ہیں بلکہ وہ مومنوں کے لیے ان کے ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحیم ہیں ۔ بنابریں آپ کا حق تمام مخلوق پر فائق اور مقدم ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانا، آپ کی تعظیم کرنا، آپ کی عزت و توقیر کرنا تمام امت پر فرض ہے۔
[129]﴿فَاِنۡ﴾ ’’پس اگر‘‘ وہ ایمان لے آئیں تو یہ ان کی خوش نصیبی اور توفیق الٰہی ہے۔ اور اگر وہ ﴿ تَوَلَّوۡا﴾ ’’پھرجائیں ۔‘‘ یعنی ایمان و عمل سے روگردانی کریں تو آپﷺ اپنے راستے پر گامزن رہیں اور ان کو دعوت دیتے رہیں ۔ ﴿ فَقُلۡ حَسۡبِيَ اللّٰهُ﴾ ’’اور کہہ دیں ! کہ (تمام امور میں ) میرے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر توکل کیا۔‘‘ یعنی امور نافعہ کے حصول اور ضرر رساں امور کو دور ہٹانے کے لیے، میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَهُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ اس عظیم عرش کا رب ہے جو تمام مخلوقات پر سایہ عرش سے کم تر مخلوق کا رب ہونا اولیٰ اور احریٰ ہے۔