Abasa
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ 1 أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ 2 وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ 3 أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ 4 أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ 5 فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ 6 وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ 7 وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ 8 وَهُوَ يَخْشَىٰ 9 فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ 10
ماتھے پہ شکن ڈالے اور منہ پھیر لیا(1) اس لیے کہ آیا ان کے پاس ایک نابینا(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو شاید کہ وہ پاک ہو جاتا(3) یا وہ نصیحت حاصل کرتا (سنتا) پس نفع دیتی اس کو نصیحت(4) لیکن جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے(5) تو آپ اس کےدرپے ہوتے ہیں(6) حالانکہ نہیں ہے آپ پر (کوئی الزام) یہ کہ نہ پاک ہو وہ(7) اور لیکن جو شخص آیا آپ کے پاس دوڑتا ہوا(8) اس حال میں کہ وہ ڈرتا ہے(9) تو آپ اس سے بے پروائی کرتے ہیں (10)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ان آیات کریمہ کے نزول کا سبب یہ ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک نابینا شخص نبی ٔاکرمﷺ کی خدمت میں، آپ سے کچھ پوچھنے اور سیکھنے کے لیے حاضر ہوا اور (مکہ مکرمہ کے) دولت مند لوگوں میں سے بھی ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مخلوق کی ہدایت کے بہت حریص تھے، چنانچہ آپ اس دولت مند شخص کی طرف مائل ہوئے اور اس کی طرف توجہ مبذول کی اور اس نابینا محتاج کی طرف توجہ نہ کی، اس امید پر کہ وہ دولت مند شخص راہ ہدایت پا لے اور اس کا تزکیہ ہو جائے، پس اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں آپ پر ناراضی کا اظہار کیا، چنانچہ فرمایا:
[10-1]﴿عَبَسَ﴾ یعنی آپ ترش رو ہو گئے ﴿وَتَوَلّٰۤى﴾ اور اپنے جسم کو موڑ لیا، اس بنا پر کہ اندھا آپ کے پاس آیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نابینا شخص کی طرف توجہ دینے کا فائدہ بیان فرمایا :﴿وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّهٗ ﴾ ’’اور تمھیں کیاخبر کہ شاید وہ۔‘‘ یعنی نابینا شخص ﴿ يَزَّكّٰۤى﴾ اخلاق رذیلہ سے پاک اور اخلاق جمیلہ سے متصف ہونا چاہتا ہو۔ ﴿ اَوۡ يَذَّكَّـرُ فَتَنۡفَعَهُ الذِّكۡرٰى﴾ یا وہ کسی چیز سے نصیحت پکڑتا جو اسے فائدہ دیتی اور وہ اس نصیحت سے نفع حاصل کرتا ، یہ بہت بڑا فائدہ ہے اور یہی چیز انبیاء و رسل کی بعثت، واعظین کے وعظ اور یاد دہانی کرانے والوں کی تذکیر کا مقصد ہے، جو شخص اس چیز کا حاجت مند بن کر خود چل کر آیا ہے، اس کی طرف آپ کو توجہ دینا زیادہ لائق اور واجب ہے۔رہا آپ کا اس بے نیاز دولت مند کی ہدایت کے درپے ہونا اور اس سے تعرض کرنا جو بھلائی میں عدم رغبت کی بنا پر سوال کرتا ہے نہ فتویٰ طلب کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اس شخص کو چھوڑ دینا جو اس سے زیادہ اہم ہے، آپ کے لیے مناسب نہیں کیونکہ آپ پر اس کے پاکیزگی اختیار نہ کرنے کا کوئی گناہ نہیں ۔ اور اگر وہ پاک نہیں ہوتا تو آپ اس برے کام کا محاسبہ کرنے والے نہیں ہیں جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے۔یہ چیز مشہور شرعی قاعدے پر دلالت کرتی ہے، وہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی امر معلوم کو کسی امر موہوم کی خاطر اور کسی مصلحت متحققہ کو کسی مصلحت موہومہ کی خاطر ترک نہ کیا جائے۔نیز مناسب یہ ہے کہ وہ طالب علم جو علم کا حاجت مند اور حصول علم کا حریص ہے اس پر دوسروں کی نسبت زیادہ توجہ دی جائے۔