U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · At-Tahrim
Suuradda 66

At-Tahrim

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadda 9

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ جَـٰهِدِ ٱلْكُفَّارَ وَٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ 9

اے نبی! آپ جہاد کیجیے کفار و منافقین سے اور سختی کیجیے ان پر اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(9)

[9] اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا، ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا، گمراہی کی مختلف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا ابطال کرنا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کر دے، اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے۔ پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے۔رہا جہاد کا پہلا مرتبہ، تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے، پس کفار اور منافقین پر اور ان کے خلاف جہاد پر اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر ان کے لیے عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہو گا جو بہت بری جگہ ہے جس کی طرف ہر بدبخت اور خائب و خاسر شخص لوٹے گا۔

یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال، مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے۔ گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اگر انھوں نے برائی کی ہے، چنانچہ فرمایا: