U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-An'aam
Suuradda 6

Al-An'aam

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 116–117

وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ 116 إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِۦ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُهْتَدِينَ 117

اور اگر اطاعت کریں آپ اکثر کی ان میں سے جو زمین میں ہیں تو وہ بہکادیں گے آپ کو اللہ کے راستے سے، نہیں پیروی کرتے وہ مگر اپنے گمان کی اور نہیں ہیں وہ مگر اٹکل پچو کرتے (116)یقینا آپ کا رب، وہ خوب جانتا ہے اس کو جو بہکتا ہے اس کی راہ سےاور وہ خوب جانتا ہے ہدایت یافتہ لوگوں کو(117)

[116] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ کو لوگوں کی اکثریت کی اطاعت سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ہے ﴿وَاِنۡ تُطِعۡ اَكۡثَرَ مَنۡ فِي الۡاَرۡضِ يُضِلُّوۡكَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’اگر آپ کہنا مانیں گے اکثر ان لوگوں کا جو دنیا میں ہیں تو وہ آپ کو بہکا دیں گے‘‘ کیونکہ ان میں سے اکثر لوگ اپنے دین، اعمال اور علوم سے منحرف ہو چکے ہیں ۔ پس ان کے دین فاسد اور ان کے اعمال ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں اور ان کے علوم میں تحقیق ہے نہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی۔ ان کا تمام تر مقصد ظن و گمان کی پیروی ہے اور ظن و گمان حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں محض اندازوں سے ایسی بات کہتے ہیں جس کا انھیں علم نہیں ۔

[117] جس کے یہ احوال ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کو ڈرانا اور ان کے احوال کو بیان کرنا مناسب ہے کیونکہ اس آیت کریمہ کا خطاب اگرچہ نبی اکرمﷺ کی طرف ہے تاہم آپ کی امت ان تمام احکام میں آپ کی تابع ہے جو خصوصی طور پر صرف آپ کے لیے نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچی بات کہنے والا ہے ﴿ هُوَ اَعۡلَمُ مَنۡ يَّضِلُّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’وہ خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہکے‘‘ اور وہ اسے بھی جانتا ہے جو راہ راست پر چلے اور جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرے۔ پس اے مومنو! تم پر فرض ہے کہ تم اس کی نصیحتوں پر عمل کرو اور اس کے اوامر و نواہی کی پیروی کرو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ تمھارے مصالح کا علم رکھتا ہے اور تم سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی گروہ کی کثرت سے اس کے حق ہونے پر استدلال نہیں کیا جا سکتا اور اسی طرح اگر کسی معاملے میں ، اس کو اختیار کرنے والے تھوڑے ہوں تو یہ قلت ان کے ناحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ بلکہ اس کے برعکس فی الواقع حقیقت یہ ہے کہ اہل حق تعداد میں بہت کم اور اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر اور اجر میں بہت عظیم ہوتے ہیں ، اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کی پہچان کے لیے ان ذرائع کو اختیار کیا جائے جو اس کے لیے معروف ہیں ۔