U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Qamar
Suuradda 54

Al-Qamar

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 18–22

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ 18 إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِى يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ 19 تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ 20 فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ 21 وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ 22

تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)

[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔

[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔

[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔

[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔