Qaaf
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ 36 إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ 37
اور کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے قومیں، وہ زیادہ سخت تھیں ان سے پکڑنے(قوت)میں، پس وہ چلے پھرے شہروں میں کیا ہے کوئی جگہ بھاگنے کی؟ (36) بلاشبہ اس میں البتہ نصیحت ہے اس شخص کے لیے کہ ہو اس کے لیے (خاص) دل یا وہ لگائے کان جبکہ وہ حاضر ہو(دل و دماغ سے)(37)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرمﷺ کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے:﴿ وَؔكَمۡ اَهۡلَكۡنَا قَبۡلَهُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ﴾ ’’ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کرڈالیں۔‘‘ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ﴿ هُمۡ اَشَدُّ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’وہ زیادہ تھے ‘‘ان لوگوں سے ﴿بَطۡشًا﴾ ’’قوت میں‘‘ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے۔ بنابریں فرمایا:﴿ فَنَقَّبُوۡا فِي الۡبِلَادِ﴾ ’’پس انھوں نے شہروں کاگشت کیا۔‘‘ یعنی انھوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہو گئے۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو درد ناک سزا اور سخت عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا ﴿ هَلۡ مِنۡ مَّحِيۡصٍ﴾ ’’کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے۔‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس وقت ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ ہوتی ہے۔ نہ کوئی بچانے والا ہوتا ہے پس ان کی قوت ان کا مال اور ان کی اولاد ان کے کسی کام نہ آ سکی۔
[37]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَذِكۡرٰى لِمَنۡ كَانَ لَهٗ قَلۡبٌ﴾ ’’بےشک جو شخص دل رکھتا ہے اس کے لیے اس میں نصیحت ہے۔‘‘ یعنی ایک عظیم، زندہ، ذہین اور پاک دل، یہ دل جب آیات الٰہی میں سے کوئی آیت اس پر گزرتی ہے تو اس سے نصیحت حاصل کر کے فائدہ اٹھاتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہوتا ہے اور اسی طرح جو کوئی کان لگا کر آیات الٰہی کو اس طرح غور سے سنتا ہے، جس سے رشد و ہدایت حاصل کرتا ہے اور اس کا قلب ﴿ شَهِيۡدٌ﴾ ’’حاضر ہوتا ہے‘‘ تو وہ بھی تذکر، نصیحت، شفا اور ہدایت سے بہرہ مند ہوتا۔ رہا روگردانی کرنے والا شخص جو آیات الٰہی کو غور سے نہیں سنتا تو اس شخص کو آیات الٰہی کوئی فائدہ نہیں دیتیں، کیونکہ اس کے پاس قبولیت کا مادہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس شخص کی ہدایت کا تقاضا نہیں کرتی جس کا یہ وصف ہو۔