U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Qaaf
Suuradda 50

Qaaf

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 12–15

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَـٰبُ ٱلرَّسِّ وَثَمُودُ 12 وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَٰنُ لُوطٍ 13 وَأَصْحَـٰبُ ٱلْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ 14 أَفَعَيِينَا بِٱلْخَلْقِ ٱلْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِى لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ 15

جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور رَس (کنویں) والوں نے اور ثمود نے (12) اور عاد اور فرعون اور بر ادرانِ لوط نے (13)اور ایکہ (بستی) والوں اور قوم تُبَّعْ نے، (ان) سب نے جھٹلایا رسولوں کو تو ثابت ہو گئی (ان پر) میری وعید (14)کیا پس ہم تھک گئے ہیں پہلی بار پیدا کر کے؟ (نہیں)بلکہ وہ شک میں ہیں پیدا کرنے سے از سر نو (15)

[14-12] یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوحu کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالحu کی تکذیب کی، عاد نے ہودu کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوطu کو اور اصحاب ایکہ نے شعیبu کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چنانچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا؟ کیونکہ… واللہ اعلم… وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہو گئی۔حضرت محمد(ﷺ) کو جھٹلانے والو! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمھارے رسولﷺسے بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔

[15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق اول یعنی ابتدائی پیدائش کے ذریعے سے آخرت کی تخلیق پر استدلال کیا۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو عدم کے بعد وجود میں لایا اسی طرح وہ ان کے مرنے اور ان کے مٹی ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا ۔اس لیے فرمایا: ﴿ اَفَعَيِيۡنَا ﴾ کیا ہم بے بس ہو گئے اور ہماری قدرت کمزور پڑ گئی ﴿ بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ﴾ ’’پہلی بار پیدا کرکے۔‘‘ معاملہ ایسا نہیں ہے، ہم ایسا کرنے سے عاجز ہیں نہ بے بس اور انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں، وہ تو تخلیق جدید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا معاملہ ان پر ملتبس ہو کر رہ گیا۔ حالانکہ یہ التباس کا مقام نہیں کیونکہ اعادہ، ابتدا سے زیادہ سہل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور وہ اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘