U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Al-Fath
Suuradda 48

Al-Fath

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadaha 8–9

إِنَّآ أَرْسَلْنَـٰكَ شَـٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا 8 لِّتُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا 9

بلاشبہ ہم نے بھیجا آپ کو گواہی دینے والا، اور بشارت دینے والا، اور ڈرانے والا (بنا کر)(8) تاکہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے، اور (تاکہ) مدد کرو تم اس کی اور توقیر کرو اس کی اور (تاکہ) پاکی بیان کرو تم اس کی صبح اور شام(9)

[8]﴿ اِنَّـاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ اے رسول کریم! (ﷺ) ہم نے آپ کو بھیجا۔ ﴿ شَاهِدًا﴾ گواہ بناکر ،یعنی آپ کی امت جو نیکی یا بدی کرتی ہے، ہم نے آپ کو اس پر گواہ بنا کر بھیجا اور تمام حق اور باطل مقالات اور مسائل پر، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ہر لحاظ سے اس کے اپنے کمال میں منفرد ہونے پر آپ کو گواہ بنا کر مبعوث کیا۔ ﴿وَّمُبَشِّرًا﴾ جس کسی نے آپ کی اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اس کے لیے دنیاوی، دینی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا بنا کر بھیجا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، اس کو دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا۔ تبشیر اور انذار یہ ہے کہ ان اعمال و اخلاق کو بیان کیا جائے جن پر خوشخبری دی جاتی ہے اور جن کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ، چنانچہ آپ خیر و شر، سعادت و شقاوت اور حق و باطل کو کھول کھول کر بیان کر دینے والے ہیں۔

[9] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا یہ ارشاد مرتب فرمایا: ﴿ لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ﴾ رسول اللہﷺ کے تمھیں دعوت اور ان امور کی تعلیم دینے کے سبب سے ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جن میں تمھارا فائدہ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو تمام امور میں ان دونوں کی اطاعت کو مستلزم ہے۔ ﴿ وَتُعَزِّرُوۡهُ وَتُوَقِّرُوۡهُ﴾ تم رسول اللہﷺ کا ادب کرو، آپ کی توقیر یعنی تعظیم کرو، آپ کو مرتبے میں بڑا تسلیم کرو اور آپ کے حقوق کو ادا کرو جیسا کہ تمھاری گردنوں پر آپﷺ کا بڑا احسان ہے۔ ﴿ وَتُسَبِّحُوۡهُ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ﴿ بُؔكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا﴾ صبح و شام۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ حق بیان کیا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان مشترک ہے، یعنی ان دونوں پر ایمان۔ ایک حق وہ ہے جو رسول اللہﷺ سے مختص ہے اور وہ ہے آپ کی تعظیم و توقیر اور ایک حق وہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور وہ ہے نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس کی تسبیح و تقدیس۔