Aal-i-Imraan
Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.
Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْـَٔاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّـٰصِرِينَ 56 وَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلظَّـٰلِمِينَ 57
پس لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو میں عذاب دوں گا ان کو عذاب شدید دنیا میں اور آخرت میں، اور نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی مدد گار(56) اور لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک، تو اللہ پورے دے گا انھیں اجر ان کے، اور اللہ نہیں پسند کرتا ظالموں کو(57)
[57,56] چنانچہ اللہ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ﴿فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’پھر جنھوں نے انکار کیا‘‘ اللہ کے ساتھ کفر کیا، اس کی آیات کا اور رسولوں کا انکار کیا ﴿ فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًؔا فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ﴾ ’’پس میں انھیں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا‘‘ دنیا کے عذاب سے مراد ظاہر نظر آنے والی مصیبتیں، سزائیں، قتل ، ذلت وغیرہ ہیں۔ اور آخرت کا عذاب سب سے بڑی آفت اور مصیبت ہے۔ یعنی جہنم کا عذاب، اللہ کی ناراضی، اور نیکی کے ثواب سے محرومی۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ ﴾ ’’اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ وہ بھی جنھیں وہ اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کرنے والے سمجھتے ہیں، وہ بھی نہیں، جنھیں وہ اللہ کو چھوڑ کر دوست بناتے ہیں، نہ ان کے رفیق نہ رشتے دار، نہ وہ خود اپنی کچھ مدد کرسکیں گے۔ ﴿ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’لیکن جو لوگ ایمان لائے‘‘ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، موت کے بعد کی زندگی پر، اور ان سب امور پرایمان لائے، جن پرایمان لانے کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور نیک اعمال کیے‘‘ دل، زبان اور بدن سے ادا ہونے والے وہ اعمال جنھیں رسولوں نے مشروع اور مطلوب قرار دیا۔ اور ان اعمال سے ان کا مقصد رب العالمین کو خوش کرنا تھا۔ ﴿ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ﴾ ’’پس انھیں وہ (اللہ تعالیٰ) ان کا پورا ثواب دے گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں دنیا میں بھی نیکیوں کا ثواب ملے گا، یعنی عزت، احترام، مدد، پاکیزہ زندگی، البتہ مکمل ثواب قیامت کو ملے گا کہ اللہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا ثواب بھی دے گا، اور اپنے فضل و کرم سے مزید انعامات بھی دے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہے اور انھیں عذاب دیتا ہے۔