U bood nuxurka
Tafsir As-Saadi - Urdu · Aal-i-Imraan
Suuradda 3

Aal-i-Imraan

Kani waa tafsiir ku qoran luqad aan Carabi ahayn sida uu ugu jiro Quranic Universal Library (QUL, ee Tarteel), oo laga qaaday nuqulka furan ee xogta QUL ee spa5k/tafsir_api haysto. Diiwaanka QUL ma sheegayo cidda qortay ama tarjumay ama daabacaadda la daabacay ee uu raacayo, mana caddaynayo shatiga qoraalka, sidaas darteed xaqa muujintiisa lama xaqiijin. Qofna ma barbardhigin buug la daabacay, aqoonyahanna ma dib u eegin. Qayb kasta waxay ag taagan tahay aayadaha ay ka hadlayso, kuwaas oo ah qoraalka Quraanka ee Tanzil, sida uu ugu yaal halkaas. Sabīl wax ka mid ah ma qorin, mana tarjumin.

Qoraalka waxaa laga helayQuranic Universal Libraryspa5k/tafsir_apiMITla qaaday 2026-10-21

Aayadda 160

إِن يَنصُرْكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا ٱلَّذِى يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ 160

اگر مدد کرے تمھاری اللہ تو نہیں کوئی غالب آنے والا تم پر اور اگر وہ (بے مدد) چھوڑ دے تمھیں تو پس کون ہے جو مدد کرے تمھاری بعد اس کے؟ اور اللہ ہی پر پس چاہیے کہ توکل کریں مومن (160)

[160] اگر اللہ تعالیٰ اپنی فتح و نصرت اور اعانت کے ذریعے سے تمھاری مدد کرے ﴿فَلَا غَالِبَ لَكُمۡ﴾ تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، خواہ دنیا کے تمام گوشوں سے جمع ہو کر لوگ تمھارے خلاف کیوں نہ آ جائیں اور خواہ ان کے پاس کتنی ہی زیادہ تعداد اور کتنا ہی سروسامان کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ تمام بندے اس کے سامنے مغلوب و مقہور ہیں۔ ان کی پیشانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے، پس کوئی جاندار اس کی اجازت کے بغیر حرکت کر سکتا ہے نہ اس کی اجازت کے بغیر سکون اختیار کر سکتا ہے۔ ﴿وَاِنۡ يَّؔخۡذُلۡكُمۡ﴾ ’’اور اگر وہ تمھاری مدد نہ کرے‘‘ یعنی تمھیں تمھارے نفس کے حوالے کر دے ﴿فَمَنۡ ذَا الَّذِيۡ يَنۡصُرُؔكُمۡ مِّنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مدد کرے؟‘‘ اس لیے اگر تمام مخلوق بھی تمھاری اعانت پر مجتمع ہو جائے تو پھر بھی تم مدد سے محروم ہو گے۔ یہ آیت کریمہ اس حکم کو متضمن ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے فتح و نصرت طلب کی جائے، اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اپنی طاقت و قدرت سے براء ت کا اظہار کیا جائے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَؔكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ معمول کو عامل سے قبل لانا حصر کا معنی دیتا ہے۔ یعنی تم صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرو، کسی اور پر بھروسہ نہ کرو۔ کیونکہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ اکیلا مدد کرنے والا ہے۔ اس لیے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توحید ہے اور اس سے مقصود و مطلوب حاصل ہوتا ہے اور کسی دوسرے پر بھروسہ کرنا شرک ہے اور بھروسہ کرنے والے کو کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ نقصان دہ ہے۔ اس آیت میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے اور بندۂ مومن کے ایمان کے مطابق ہی اس کا توکل ہوتا ہے۔